( ملفوظ 257 ) شہید صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرات صحابہ کے قد و قامت اس زمانہ کے لوگوں سے بہت بڑے ہوں گے ، فرمایا کہ مجھ کو بھی یہی خیال ہوا کرتا تھا مگر ایک بدوی مجھ سے کہتے تھے کہ عرصہ ہوا ، ایک مرتبہ مدینہ کے پہاڑوں میں پانی جمع ہو کر سیلاب کی صورت میں ایک دم چڑھ آیا اور اس نے بہت سے مقامات کو کاٹ ڈالا ، من جملہ اور مقامات کے شہداء احد کی قبریں بھی اس سیلاب سے کٹ گئیں ، کثرت سے لاشیں دیکھی گئیں ، ان میں کوئی تغیر نہ تھا ۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ آج ہی دفن کی گئی ہیں ، ہزاروں مخلوق نے دیکھا ذرا برابر لاشوں میں تغیر نہ ہوا تھا ، فرمایا کہ شہید کو ان ہی کپڑوں میں دفن کیا جاتا ہے وہ لباس بجنسہ موجود تھا ، کہتے ہیں کہ موٹا کپڑا تھا اس قدر موٹا کپڑا آج کل دیکھنے میں نہیں آتا ، میں نے ان سے دریافت کیا کہ قد ان حضرات کے کیسے تھے کہا کہ اس وقت کے لوگوں سے زائد فرق نہ تھا ، یہ میں نے اسی وجہ سے سوال کیا تھا کہ میں بھی یہی خیال کرتا تھا کہ شاید اس زمانہ کے لوگوں سے زیادہ فرق ہو گا مگر معلوم ہوا کہ کوئی زیادہ تفاوت نہیں ہوا تھوڑا ہی سا فرق ہوا ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ جن لوگوں نے شہدا احد کی لاشوں کی زیارت کی اس کا حاصل یہ ہوا کہ ان پر صحابہ کی زیارت نصیب ہو گئی ، کیا وہ تابعی ہو گئے ، فرمایا کہ بعد وفات کے صحابہ کی زیارت کرنے سے تابعی نہیں ہو سکتا ۔