( ملفوظ 23 ) ہر کام طریقہ اور قاعدہ سے ہونا چاہئے

ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ طریقہ درخواست کا بتلا دیا گیا ہے جس وقت قاعدہ اور سلیقہ سے درخواست کی جائے گی فورا سلسلہ تعلیم جاری کر دیا جائے گا اور اگر اس طریقہ اور قاعدہ پر کوئی اعتراض ہے جیسے بعض بد فہم قانون سے گھبراتے ہیں تو نماز میں بھی قاعدہ اور طریقہ ہے مثلا وضو ہے قبلہ رخ ہونا ہے طہارت ہے وغیرہ وغیرہ اب اگر اسیر کوئی کہے کہ بس جی ان قیود کا مقصود تو یہ ہے کہ نماز ہی نہ پڑھو جیسے استفادہ طریق کے قوانین کے متعلق ناواقف یہی شبہ کرتے ہیں کہ انکا حاصل تو طریق کا تنگ کرنا ہے تو اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے.