( ملفوظ 24)دین کے آسان ہونے کا مطلب اور چند بزرگوں کی حکایات

( ایک مولوی صاحب کے سوال جے جواب میں فرمایا کہ دین کے آسان ہونے میں کوئی شبہ نہیں اگر کسی کو شبہ ہوتا ہے حقیقت کہ نہ سمجھنے سے ہوتا ہے ایک شخص نے مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی سے عرض کیا کہ حضرت مفقود کے مسئلہ میں تو بڑا حرج ہے فرمایا کہ بڑا حرج لئے پھرتا ہے جہاد میں بھی تو حرج ہے جان دینی پڑتی ہے اس کو بھی قرآن شریف سے نکال دو ـ مولانا پر جزب کا غلبہ رہتا تھا اسی رنگ کا جواب دیا جزب کے مناسب ایک واقعہ مولانا کا بیان فرمایا کہ وقار الامر ادء حیدر آبادی ملاقات کو آئے مولانا نے حکم دیا نکال دو صاحب زادہ نے سفارش کی فرمایا اچھا دو بجے رات تک اجازت ہے وہ بھی نہایت ہی ادب سلیم الطبع تھے دو بجے چلے گئے بعض لوگوں نے کہا بھی کہ صبح کو چلے جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ خلاف ادب ہے یہاں پر قیام کرنا مولانا کا اس کے بعد ٹھرنے کا حکم نہیں یہ اس زمانہ کے امراء کی حالت تھی خصوص حیدر آباد کے امراء نہایت ہی مخلص اور فقراء سے نہایت خوش اعتقاد تھے ہمارے ماموں صاحب کا فرمانا یاد آیا کہ حیدر آباد کے فقراء تو دوخی ہیں اور امراء کا تعلق تو فقراء سے دین کی وجہ سے ہے اور فقراء کا تعلق امراء سے دنیا کی وجہ سے ہے ان کی دنیا پرستی پر نظام دکن کا ایک مقولہ نقل کیا کہ ان سے کہا کہ مرید ہو جاؤ دریافت کیا کس سے کہا کہ آپ کے شہر میں بہت سے سے مشائخ ہیں کہا کہ وہ تو خود میرے مرید ہیں کہ با ارادہ دنیا میرے پاس آتے ہیں میں ان کا کیا مرید ہوتا کہی تو سمجھ اور کام کی بات میں جو حیدر آباد گیا وہاں پر چند قدم روز قیام رہا اور چند وعظ بھی ہوئے میرے چلے آنے کے بعد حفظ الایمان کی عبارت لکھ کر اور اس پر ایک فتوی بنا کر وہاں کے مشائخ کے دسخط کرا کر نظان کے سامنے پیش کیا کہ آئندہ کے لئے اس شخص کا حدود ریاست میں داخلہ بند کر دیا جائے اگر یہ شخص ایک دو بار آیا سب کو گمراہ کر دے گا نظام نے کہا کہ جس شخص کی یہ عبارت ہے وہ زندہ ہے اس سے اس کا مفہوم دریافت کرو اور جب وہاں سے جواب آجاوے ہمکو دکھلاؤ ہم اس وقت رائے قائم کریں گے اب کون لکھتا ہے وہ تو شرارت تھی نظام بڑے دانشمند ہیں اسی سلسلہ میں یہ بیان کیا کہ میں جب حیدر آباد تھا تو بعض احباب نے چاہا کہ نظام سے ملاقات ہو مگر میں دعا کرتا تھا کہ سامنا نہ ہو نظام کو بھی کوئی دلچسپی نہ ہوتی اور بھی الجھن ہوتی دوسرے عوام کا نقصان ہوتا ان کو خیال ہوتا کہ یہ بھی دنیا کے لئے آیا تھا اب جو وعظوں سے اثر ہوتا وہ جاتا رہتا رہا کچھ وظیفہ وغیرہ اگر ہو جاتا تو غریب تو ہدایا اس لئے بند کردیتے کہ اب پیر کو کیا پرواہ رہی اور وہ بھی کسی بات پر بد اعتماد ہو کر اگر وظیفہ بند کر دیتے ہیں بس ہم تو کسی طرف کے بھی نہ رہتے اس لئے ہمارے یہی حجمان جو ہیں آٹھ آنہ چار دو آنہ والے وہی ٹھیک ہیں اور الجھن پر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کا مقولہ نقل کیا کہ وہ فرمایا کہ امراء کے پاس بیٹھ کر قلب میں دین کا اثر کمزور ہو جاتا ہے اور دنیا کا اثر قوی ہو جاتا ہے اور یہ اثر اس وجہ سے ہوتا ہے ان کے پاس تابع بنکر جاتے ہیں اور جو شخص کسی کے پاس قصد کر کے جائے گا اس پر اسی کا اثر ہوگا چناچہ گر امراء قصد کر کے اہل دین کے پاس آئیں تو ان ہر دین اثر ہوگا اور اگر اہل دین امراء کے پاس قصد کر کے جائیں گے ان پر دنیا کا اثر ہوگا غرض تابع بنکر اس کے پاس رہے تو اس پر اثر ہوگا اور دین پیدا ہوگا اگر نیک آدمی بد صحبت اختیار کرے اور اس کے پاس رہے تو اس پر اثر بدی کا ہوگا ـ