آج کل کی بعضی بے محل یا تکلف کی تواضع پر ایک حکایت فرمائی ۔ محمدی شاہ صاحب الہ آباد میں ایک ولایتی درویش تھے ان کے پاس ایک حافظ صاحب ایک ایسے شخص کے ساتھ آئے جو شاہ صاحب کے شناسا تھے ۔ شاہ صاحب نے ان کے ہمراہی سے ان کا تعارف پوچھا ، انہوں نے کہا کہ یہ ایک حافظ حاجی شخص ہیں آپ سے ملنے آئے ہیں ۔ حافظ جی نے تواضعا کہا میں کیا حافظ حاجی ہوتا ہوں میں تو ایک معمولی آدمی ہوں ۔ محمدی شاہ صاحب بگڑ گئے ، کہنے لگے اچھا تم یہ چاہتا ہے کہ تم حاجی نہ رہے ، تمہارا حج خبط ہو جائے اور تم کو قرآن یاد نہ رہے تم خدا کی ناشکری کرتے ہوں بہت ہی خفا ہوئے ، پھر جب کبھی یہ حافظ صاحب ان سے ملنے جاتے تو کہتے کہ آؤ ناشکرا حافظ ، ناشکرا لقب ہی ڈال دیا ان باتوں کو لوگ تواضع سمجھتے ہیں اگر تواضع ایسی ہی ارزاں ہے تو پھر اس قصہ میں بھی تواضع سمجھی جائے گی وہ قصہ یہ ہے کہ میں ایک مرتبہ الہ آباد سے کان پور کو سوار ہوا ، ریل میں چند نوجوان جنٹلمین اسی ڈبہ میں سوار تھے اور ایک منصف صاحب بھی سوار تھے ، یہ منصف صاحب پرانے اور سادہ وضع کے آدمی تھے ۔ ان جنٹلمینوں نے ان مصنف صاحب کو بنانا شروع کیا کہ ابتداء بے تکلفی کی منصف صاحب کی طرف سے ہوئی ۔ غرض ان جنٹلمینوں نے کھانے کا دستر خوان کھولا اور ایک نے منصف صاحب سے کہا کہ آئیے آپ بھی کچھ گو موت کھا لیجئے ، دوسرے ساتھی صاحب بولے کہ کیا واہیات ہے توبہ کرو توبہ کرو کھانے کو گو موت کہتے ہو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اپنے کھانے کو کھانا کہنا یہ بھی تکبر ہے ۔ اس حیثیت سے کہ وہ اپنا کھانا ہے تو موت ہی کہنا تواضع ہے ۔ فرمایا کہ اس قاعدہ سے تو اپنے کو نمازی کہنا اور مسلمان کہنا بھی تکبر ہو گا ۔ تواضع یہ ہو گی کہ میں نمازی کیا ہوتا میں مسلمان کیا ہوتا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں بے نمازی ہوں میں کافر ہوں ، یہ بھی کوئی تواضع ہے البتہ اپنی نماز اپنے ایمان پر گھمنڈ نہ کرے کیونکہ ہم کو یہ نعمتیں باوجود عدم اہلیت کے عطا ہو گئیں تو نعمت کا تو اثبات کرے اور اہلیت کی نفی کرے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک بادشاہ ہفت اقلیم کا کسی چمار کو بیش قیمت موتی دے دے جو اس کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہو تو اس کو لے کر وہ ناز کرے گا یا کہ خوف کرے گا اس وقت اس کی دو حیثیتیں ہوں گی ایک تو شاہی عطیہ ہونے کی اور ایک اس کو عطا ہونے کی تو کیا وہ اپنے کو موتی والا نہ کہے گا ، موتی والا ضرور کہے گا اگر نہ کہے گا تو عطیہ شاہی کی بے قدری اور ان کا الزام آئے گا مگر ساتھ ہی میں یہ بھی کہے گا کہ بادشاہ کی بڑی عنایت ہے کہ مجھ جیسے نااہل کو اتنی بڑی قیمتی چیز عطاء فرما دی ۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور ہم متکبر نہیں اس کو اپنا کمال سمجھنا تکبر ہے اور خدا کا عطیہ سمجھنا تواضع ۔ بس یہ خیال کر لے کہ یہ ہماری چیزیں نہیں خدا کی چیزیں ہیں جیسے شجاعت ہے حسن ہے ان کو اپنا کمال سمجھنا اور فخر کرنا تکبر ہے ان چیزوں کو خدا کی سمجھنا اور ان پر ناز نہ کرنا یہ تواضع ہے ۔
