ملفوظ 229: حضرت اور امور تکوینیہ سے عدم مناسبت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ سنا ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے مکہ معظمہ میں جب کوئی پوچھتا کہ میں مدینہ منورہ سلطانی راستے سے جاؤں یا دوسرے راستہ سے ـ حضرت کے جو جی میں آتا فرما دیتے کہ فلاں راستے سے جاؤ اس راستہ سے جانے میں جانے والا مامون و محفوظ رہتا ـ اسی طرح حضرت کے قلب میں ایسے امور میں جو بات آیا کرے فرما دیا کریں فرمایا کہ آتا ہی نہیں عرض کیا جی حضرت آتا نہیں فرمایا کہ میں عرض کرتا ہوں مجھ کو امور تکوینیہ کے مصالح سے مناسبت ہی نہیں قلب کی یہ کیفیت ہے کہ جب تک اللہ و رسول کا ذکر رہتا ہے طبیعت خوش رہتی ہے اور جہاں دنیوی قصے شروع ہوئے مجھے وحشت شروع ہوئی ـ اس کی وجہ بھی آج ہی قلب میں آئی وہ وجہ یہ ہے کہ میں ایک مجذوب کی دعا سے پیدا ہوا ہوں یہ سبب ہے اس حالت کا ـ اس سے پہلے میرے قلب میں یہ وجہ کبھی نہیں آئی اور آج بھی قلب میں احتمالا آئی ہے احتمالا ہی بیان کرتا ہوں کہ شاید یہ وجہ ہو میری اس کیفیت کی اور شاید یہی وجہ ہو کہ مجھ کو بکھیڑوں سے الجھن ہوتی ہے جی چاہتا ہے کہ ہر بات صاف ہو خود بھی اس کا اہتمام رکھتا ہوں اور دوسروں سے بھی یہی چاہتا ہوں مگر لوگوں کو اس کی عادت ہی نہیں ـ ہر بات کے الجھانے ہی میں مزا آتا ہے یہی وجہ ہے لوگوں سے لڑائی کی اور بد نامی کی کہ سخت ہے یہ سختی ہے کہ بات صاف کہو معاملہ صاف رکھو تاکہ نہ تم کو تکلیف ہو اور نہ دوسرے کو یہ حاصل ہے میری تعلیم کا ـ لوگ اس طریق کے عادی نہیں رہے گویا اس پر قادر نہیں اور میں اسکے عکس پر قادر نہیں ـ میں بھی مجبور ہوں ـ پھر مزاحا فرمایا کہ جب معدہ ضعیف ہوتا ہے مختلف چیزیں کھپتی نہیں اور جب معدہ قوی ہو الا بلا سب ہضم ـ لوگ قوی المعدہ ہیں اور میں ضعیف المعدہ ـ
