( ملفوظ 133 )حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا دھوبی

ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا آپ تو اسی پر تعجب کر رہے ہیں ، میں نے مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی سے خود اس سے زیادہ عجیب ایک حکایت سنی ہے جس میں توجیہ کی بھی ضرورت ہے اور کوئی بیان کرتا تو شاید یقین ہونا بھی مشکل ہوتا اور بہت ممکن تھا کہ میں سن کر رو دیتا وہ یہ کہ ایک دھوبی کا انتقال ہوا ، جب دفن کر چکے تو منکر نکیر نے آ کر سوال کیا : ” من ربک ما دینک من ھذا الرجل ”
وہ جواب میں کہتا ہے کہ مجھ کو کچھ خبر نہیں میں تو حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ کا دھوبی ہوں اور فی الحقیقت یہ جواب اپنے ایمان کا اجمالی بیان تھا کہ میں ان کا ہم عقیدہ ہوں جو ان کا خدا ، وہ میرا خدا جو ان کا دین وہ میرا دین اسی پر اس کی نجات ہو گئی ۔ باقی اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا ایمان بھی اجمال ہی تھا محض تعبیر اجمالی تھی ۔