مولوی عبدالمجید صاحب نے سوال کیا کہ حضرت والا کی خدمت میں بچے آ کر بیٹھتے ہیں ان کو کوئی نفع ہوتا ہے ، فرمایا کہ برابر ہوتا ہے صحبت میں بیٹھنے سے انس ہوتا ہے اور انس پر موقوف ہے نفع کا ہونا ، فرمایا کہ انس کے نافع ہونے پر ایک قصہ یاد آ گیا ، ضلع مظفر نگر کا رہنے والا ایک ہندو ایک مسلمان کی صحبت میں رہ کر مسلمان ہو گیا اور وطن سے جلا وطن ہو کر کان پور پہنچ گیا ۔ اہل باطل کو فکر رہتی ہی ہے تکثیر کی اس بیچارے کا کوئی ٹھکانا نہ تھا ایسے ہی پھر رہا تھا ایک شیعی صاحب مل گئے وہ اس کو اپنے گھر لے گئے ، بڑی خاطر کی اس کے بعد اپنی نماز سکھانی چاہی ، اس نے کہا کہ یہ تو اور طرح کی نماز ہے میں نہیں پڑھوں گا ، میرا دوست تو اور طرح کی نماز پڑھتا تھا ، وہی مجھ کو سکھائی ہے وہی پڑھتا ہوں اور پڑھوں گا یہ جواب دے کر میرے پاس آ گیا ، میں اس وقت کان پور میں مقیم تھا اور آ کر یہ سب واقعہ بیان کیا ۔ یہ حفاظت انس ہی کی بدولت ہوئی اور کفر سے نکل کر اسلام میں داخل ہو گیا ، یہ سب انس ہی کے کرشمے ہیں ۔
