ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کوئی کیا زہد اور تقوی کا دعوی کر سکتا ہے کیا کوئی علم پر ناز کر سکتا ہے وہاں ناز سے کچھ کام نہیں چل سکتا ، نیاز کی ضرورت ہے ، دیکھئے اوپر کی حکایت میں کتنے بڑے شخص کی نظر سے ایک دقیقہ مخفی رہ گیا ۔ یہ مسئلہ حضرت شاہ حاجی صاحب کے یہاں حل ہوا کہ نفس کی تلبیس سے بعض اوقات ضروری پہلو تک بھی نظر نہیں پہنچتی ۔ چناچہ حضرت حاجی صاحب سے جب کوئی عرض کرتا کہ حضرت نوکری چھوڑ دوں اس پر حضرت فرماتے کہ نوکری مت چھوڑو کام میں لگو جب کام کرو گے خود بخود نوکری چھوڑ دو گے اور وہ وقت ہو گا کہ اس چھوڑنے کا تحمل ہو گا اور بدون کام کیے ہوئے قوت تحمل کی نہ ہو گی تو ممکن ہے کہ اس چھوڑنے سے ایسی پریشانی ہو جو دین میں مضر ہو ۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب سے عرض کیا کہ حضرت میرا ایک جگہ نوکری کا تعلق ہے اگر حضرت اجازت فرمائیں تو چھوڑ دوں ۔
حضرت نے جواب میں فرمایا کہ مولوی صاحب ابھی تک تو آپ پوچھ ہی رہے ہیں یہ پوچھنا خود دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور خامی کی حالت میں ملازمت کا تعلق چھوڑنا موجب تشویش قلب ہو گا اور جس وقت قلب میں قوت پیدا ہو جائے گی اس وقت خود بخود چھوڑ دو گے ۔ اگر کوئی روکے گا بھی نہ مانو گے ۔ یہ ہے حضرت کی شان مشیخت اور فن کی مہارت کی اور یہ سب حضرت ہی کا صدقہ ہے جس کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ۔ حضرت اس فن کے امام کے امام تھے ، مجتہد تھے ، مجدد تھے ، حضرت پیدا ہوئے اس زمانہ میں مگر ان میں روح تھی پہلوؤں کی کیسی پاکیزہ اور پرمغز تعلیم فرمائی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج رازی اور غزالی نہیں پیدا ہوتے وہ حضرت حاجی صاحب کے ان ملفوظات کو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ غزالی رازی اب بھی ہوتے ہیں یا نہیں ، یہ شان تھی حضرت کی :
برکفے جام شریعت برکفے سندان عشق ہر ہوسنا کے نداند جام و سنداں باختن
یکم شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
