فرمایا کہ آج کل لوگوں میں وقار عرفی کا مرض پیدا ہو گیا ہے جو حقیقت میں کبر ہے اور کبر بڑی ہی مضر چیز ہے اس سے اجتناب کی سخت ضرورت ہے ۔ حق تعالی جس پر اپنا فضل فرمائیں ، وہی بچ سکتا ہے ۔ البتہ جہاں اس میں شرعی مصلحت ہو وہاں اس کی صورت بھی مطلوب ہے اس کے متعلق ایک حکایت امیر شاہ خاں صاحب نے بیان کی ۔عجیب حکایت ہے نواب ٹونک وزیر الدولہ حضرت سید صاحب کے مرید تھے ۔ ایک خان صاحب ان کے پیر بھائی تھے وہ اکثر ان سے لوگوں کی سفارش کیا کرتے تھے ۔ ایک روز ایک شخص کی دربار میں سفارش کی ، نواب صاحب نے قبول نہ کی ، پیر بھائی صاحب نے نواب صاحب کے سر دربار ایک دھول رسید کی اس وقت تو نواب صاحب کچھ نہ بولے جس وقت کچہری ختم ہو چکی تنہائی میں پیر بھائی کو لیجا کر عرض کیا کہ اگر سر بازار آپ میرے جوتے لگائیں میرے لیے عین فخر کی بات ہے میرے دل میں آپ کی ایسی ہی وقعت و عظمت ہے لیکن سر دربار ایسا کرنا مناسب نہیں وہ بھی اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے مجھ کو خدمت خلق کے سپرد کی ہے اس کے لیے ضرورت ہے کسی قدر رعب کی اور اس سے رعب نہیں رہتا تو خدمت میں خلل پڑے گا اس لیے دربار میں ایسا نہ کیا کریں ، دیکھو ایسوں کو ضرورت تھی وقار کی باقی وہ خود مقصود بالذات نہیں اور کبر تو خود ہی قبیح ہے ۔
