ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے متعلقین کی بے حد دلجوئی فرمایا کرتے تھے ، بہت ہی شفیق تھے ۔ میں جب مکہ معظمہ سے واپس ہوا تو حضرت حاجی صاحب نے فرمایا کہ مولانا رشید احمد صاحب سے کہہ دینا کہ یہاں پر لوگ آپ کی بہت شکایت کرتے ہیں مگر میں نے آپ کی نسبت ضیاء القلوب میں جو لکھا ہے وہ الہام سے لکھا ہے وہ الہام بدلا نہیں اس لیے لوگوں کی شکایت کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ، آپ اطمینان سے بیٹھے رہو اور یہ بھی فرمایا کہ میری دوستی آپ کے ساتھ اللہ کے واسطے ہے جیسے اللہ کو بقاء ایسے ہی حب فی اللہ کو بھی بقاء ہے ۔ میں گنگوہ پہنچا جا کر عرض کیا کہ حضرت کا کچھ پیام لایا ہوں حضرت پر یہ سن کر ایک ایسی کیفیت پیدا ہو گئی جیسے خوف رجاء کے درمیان کی حالت ہوتی ہے ۔ یہ خیال ہوا کہ نہ معلوم کیا فرمایا ہو گا ، حجرہ میں تشریف لے گئے ، میں بھی ہمراہ ہو گیا ، میں نے سب عرض کیا کہ حضرت نے یہ فرمایا ہے بس شروع ہی سے شگفتگی حضرت پر آ گئی اور بہت خوش ہوئے اور فرمایا بھائی ہم تو کل کیے بیٹھے ہیں لوگ جو چاہیں کریں ۔
