( ملفوظ 61 )مولوی احمد رضا خان کا حضرت کو سلام

فرمایا کہ ایک مرتبہ ان ہی بدعتی مولوی صاحب کا اتفاق سے بریلی کے سٹیشن پر مقابلہ ہو گیا ، دو چار شخص ان کے ساتھ تھے اور دو چار میرے ساتھ اتفاق سے میری نظر تو نہیں پڑی مگر ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ انہوں نے دور سے بہت بڑے جھک کر سلام کیا ہے میں نے کہا میں نے نہیں دیکھا اس کے بعد ان کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص کو میں نے سلام کیا اس قدر جھلائے کہ گاڑی کے آنے میں کچھ دیر تھی پلیٹ فارم پر نہ ٹھرے ، پلیٹ فارم چھوڑ کر کرائے کی گاڑی میں آئے تھے اس میں جا بیٹھے تا کہ میری صورت بھی نہ دیکھے ۔ اب اس طرف کے لوگوں نے شہر میں اڑایا کہ آج تو ایسے مرعوب ہوئے ایسے دب گئے کہ جھک کر سلام بھی کر لیا ، ان کے معتقدین نے اس پر یہ کہا ( اور صحیح بھی کہا ) کہ پہچانا نہیں تھا عام لوگوں نے کہا کہ جی ہاں پہچانا نہیں تھا ایسے بچے تھے دودھ پیتے تھے کچھ جانتے ہی نہیں ۔ یہ عوام الناس کا اتار چڑھاؤ ہے ۔