قبل از نماز ظہر مصلے پر تشریف لے جاتے ہوئے فرمایا کہ آج ایک صاحب کا خط آیا ہے جس میں مجھ پر اعتراض کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ کلید مثنوی میں تم نے یہ فلاں بات اس طرح لکھ دی ہے ۔ میں مضمون خط کو دیکھ کر حیرت میں رہ ہی گیا کہ اللہ یہ تو میرے عقیدہ کے خلاف ہے میں ایسا مضمون کیسے لکھ سکتا ہوں ، پھر غضب یہ کہ پورا پتہ لکھا ہے کہ جلد فلاں مقام فلاں صفحہ فلاں پر یہ مضمون ہے ۔ میں نے کلید مثنوی دیکھی تب معلوم ہوا کہ حضرت نے اس میں تحریف کی ہے میری عبارت ہی نہیں ۔ میری عبارت سے جو خود سمجھے ہیں اس کو لکھا ہے کہ تو نے یہ لکھا ہے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ممکن ہے کہ کاتب سے غلطی ہوئی ہو ، فرمایا کاتب سے اتنی بڑی غلطی نہیں ہو سکتی کہ صفحہ کا صفحہ بدل ڈالے یہ تو ان حضرت کی بدفہمی کا ثمرہ ہے میری عبارت اور مضمون سے جو مفہوم خود سمجھے اس کو میری طرف
منسوب کر دیا کہ تم نے یہ لکھا ہے ۔ فرمایا کہ امانت دیانت لوگوں سے اٹھ ہی گئی ، خط کے جواب میں ان کی خبر لوں گا ۔ پھر سوال جو آگے کیا ہے وہ نہایت معقول مگر عبارت کے سمجھنے میں نامعقول رہے ۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم ہیں خواجہ صاحب نے دریافت کیا کہ کون صاحب ہیں ، فرمایا ایسے سینکڑوں ہیں میں کیا جانوں کون بلا ہیں ۔
فرمایا یہ چاہیے تھا کہ میری عبارت بجنسہ نقل کر کے یہ لکھتے کہ میں اس کا مفہوم یہ سمجھا ہوں کیا یہ صحیح ہے باقی میری عبارت کا وہ مفہوم ہی نہیں جو وہ سمجھے ، اب اس بد فہمی کا کیا علاج افسوس اہل علم سے بھی امانت ، دیانت اٹھ ہی گئی ۔ تماشا ہے عبارت اپنی لکھی ہوئی اور منسوب میری طرف میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میرے عقیدہ کے خلاف اور میں ایسی بات لکھوں ۔ میری عبارت ہی کو نہیں سمجھے میری عبارت کا مطلب ہی نہیں ایسے بد فہموں کا کیا کوئی علاج کر سکتا ہے ؟ یہ فرما کہ نماز ظہر پڑھانے کے لیے مصلے پر تشریف لے گئے ۔ بعد نماز ظہر فرمایا کہ جواب نرم لکھوں گا ، شرارت نہیں کی بلکہ سمجھے نہیں ، بیچارے معذور ہیں ، کم فہمی کا کیا علاج ہے ، شکایت صرف یہ ہے کہ سمجھ سے کام نہیں لیا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ کیا ایسی غلطی بھی ہو سکتی ہے کہ اتنا تغیر تبدل کر دیا ؟ فرمایا کہ فہم کی غلطی ایسی ہی ہوتی ہے ۔ میں جواب لکھ کر ابھی مضمون سناتا ہوں ، آپ مجھ کو یہ بھی لکھتے ہیں کہ جواب مشرح اور مفصل دیجئے ، مغلق اور اجمالی نہ ہو ۔ فرمایا آج کل اگر ہر نقل پر اعتماد کرے اچھی خاصی گمراہی پھیل جائے ، اس شخص نے تو بالکل تحریف ہی کر دی ، پھر جواب تحریر فرمایا کہ میں نے ان کو ابھی دوسری دفعہ سوال کرنے کا محتاج ہی رکھا ہے ۔ اس کے بعد حضرت والا نے کلید مثنوی لے کر اس مقام کو پڑھ کر سنایا کہ یہ ہے وہ مضمون جس پر ان کو شبہ ہوا اور وہ سمجھے نہیں حلانکہ بالکل بے غبار ہے میری عبارت کو روایت بالمعنی بنا کر اس پر شبہ کیا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ نقل بالمعنی کر دی ، فرمایا بے معنی کر دی ، ہاں بالمعنی کہنا اس معنی کو صحیح ہے کہ معنی کو بل میں کر دیا ۔ اس لطیفہ میں بالمعنی کی رسم خط سے قطع نظر کر کے تلفظ کا اعتبار کیا کہ بالمعنی کے اول لفظ بل بولا جاتا ہے اور بے معنی کر دی میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگر کسی کو لکھنا آئے اور سمجھ نہ ہو یہ بھی خدا کا قہر ہے نہ معلوم کیا لکھ رہا ہے کسی کو جیسے ان بزرگ نے میرے مضمون کا ناس کر دیا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک منہیار چوڑیوں کی گٹھڑی لیے جا رہا تھا ایک گنوار لٹھ لیے راستہ میں ملا ، اس کی گٹھڑی پر ایک لٹھ مار کر پوچھا ، ابے اس میں کیا ہے اس نے کہا میاں ایک اور مار دو تو کچھ بھی نہیں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ عجیب جواب دیا ، فرمایا کہ آپ جواب کو عجیب لیے پھرتے ہیں اس کی تمام چوڑیوں ہی کا چورا ہو گیا ، ایسے ہی ان صاحب نے میرے مضمون کے ساتھ معاملہ کیا ۔ فرمایا جواب دیکھ کر خوش نہ ہوں گے کہیں گے کہ سوال کا پھر محتاج رکھا جواب نہ دیا ۔ دیکھئے میرے لکھنے سے مقام کو سمجھ جائیں گے یا نہیں ، مشکل ہے ایسے کم فہم کی سمجھ میں کیا آئے گا ۔
