ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق بہت نازک ہے اس میں مجھ پر خود ایسی حالت گزر چکی ہے کہ اگر حضرت حاجی صاحب کا اس حالت کے قبل یہ ارشاد نہ ہوتا کہ جلدی نہ کرتا تو میں خودکشی کر لیتا ۔ اس لیے میں اس کے متعلق جو کچھ کہتا ہوں دیکھ کر کہتا ہوں ۔ اس حالت کا قصہ ہے کہ میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے ، ان کے پاس بھری بندوق تھی ، کئی مرتبہ جی میں آیا کہ ان سے کہوں کہ میرے گولی مار دیں مگر اللہ تعالی نے سنبھال لیا ۔ اس حالت میں مجھ کو بڑے گھر میں سے بہت امداد ملی اور کوئی ایسا تھا نہیں جس سے کہتا حق تعالی نے ان کو ہی غمگسار بنا دیا تھا ان سے اپنی حالت کہتا تھا ان کے جواب ایسے ہوتے تھے جیسے حضرت خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا کے جوابات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہوتے تھے ۔
