ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ دور سے تو لوگ حضرت کو سخت خیال کرتے ہیں اور پاس آ کر رعایتیں دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے ہیں ، فرمایا کہ جی ہاں واقعی میں تو اتنی رعایتیں کرتا ہوں کہ ان پر نظر کر کے یوں کہا کرتا ہوں کہ مجھ کو لوگ اگر مداہن کہیں تو ایک درجہ میں تو صحیح ہے مگر متشدد کہنا تو بالکل ہی صحیح نہیں ۔ یہاں پر ایک مرتبہ آ جائیں اور کچھ رہیں اولا
معاملات دیکھیں پھر تو یقینا مانوس ہو جاتے ہیں ، بھلا متشدد سے بھی کوئی مانوس ہوا کرتا ہے ۔
