ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج سہارن پور سے سوار ہونے کے وقت
اسٹیشن پر ساتھیوں کی وجہ سے اسباب زائد ہونے کا شبہ ہوا کیونکہ ان کا بھی اسباب تھا اس پر میں
نے بابو سے وزن کرنے کو کہا بابو انکار کرتا تھا اور میں اصرار کرتا تھا ـ اس واقعہ کو ایک اور ہندو دیکھ
رہا تھا جب گاڑی چھوٹ گئی تو اس نے ریل میں مجھ سے سوال کیا کہ آپ جو اسباب کے بارہ میں
اس قدر احتیاط اور بابو سے اصرار کر رہے تھے آپ کا تعلق مولانا اشرف علی صاحب سے معلوم ہوتا ہے
حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ بعض بات میں آدمی بدنام ہو جاتا ہے اس پر ایک دوسرے مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت تقوی کا حاصل تو یہی ہے تبسم آمیز لہجہ میں فرمایا اس کا دوسرا لقب آپ نے سنا ہوگا تو ہم !
فرمایا کہ میرے ایک دوست ہیں مدارس کے انسپکٹر ـ ایک مرتبہ دورہ میں ایک مدرسہ
میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا ـ اہل مدرسہ نے مغرب کے بعد اس کمرہ میں روشنی کا انتظام کیا جس میں
ان کا قیام تھا انہوں نے کہا کہ اگر یہ روشنی مدرسہ کی ہے تو مجھ کو ضرورت نہیں اتفاق سے وہاں
پر امیر شاہ صاحب ٹھہرے ہوئے تھے انہوں نے جب یہ بات سنی سنتے ہی فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ( مراد میں تھا ) تعلق رکھنے والے معلوم ہوتے ہیں اور پھر بہت محبت سے ملے ـ فرمایا کہ ایک اور واقعہ سنئے !
ایک بزرگ اپنی ہی جماعت کے ہیں ان کا قیام مدرسہ جونپور میں تھا وہاں پر مسجد میں
ایک طالب علم مسجد کی روشنی میں کتاب دیکھ رہے تھے اور خاص وقت ہو جانے سے فورا وہ چراغ
گل کر دیا اور اپنا روشن کر لیا وہ طالب علم کچھ دنوں یہاں پر رہ گئے تھے وہ بزرگ بے ساختہ فرماتے
ہیں یہ طالب علم وہاں سے تعلق رکھنے والا معلوم ہوتا ہے میرا نام لیا یہ بد نام ہی ہونے کی بات ہے ـ
ایک واقعہ عجیب فرمایا کہ ایک مرتبہ میں بارہ اکبرپور ضلع کانپور گیا تھا وہاں پر وعظ بھی ہوا تھا ـ وعظ
کے بعد واپسی کے لئے تیاری ہوئی اسٹیشن وہاں سے تقریبا چھ سات کوس کے فاصلہ پر تھا اور کچھ
ایسا زمانہ تھا کہ کبھی کبھی بارش ہو جاتی تھی اسی لئے میں احتیاطا ظہر کے وقت روانہ ہو گیا گو ریل
رات کے نو بجے جاتی تھی اتفاق سے اس وقت بھی تھوڑی تھوڑی بارش ہو رہی تھی ـ وہاں کے لوگوں
نے تانگہ پر اچھی طرح سائبان کا انتظام کردیا تھا میں مع ہمراہیوں کے سوار ہو کر چلدیا ـ اکبر پو
میں ایک صاحب منصف تھے وہ میرے شناسا تھے ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس وقت اسٹیشن پر آ رہا ہے
انہوں نے اسٹیشن ماسٹر کو ایک رقعہ لکھا کہ فلاں شخص اسٹیشن آ رہا ہے شب کی گاڑی سے سوار ہوگا
اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو کوئی خاص کمرہ آرام کے لئے تجویز کر دیا جائے وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ
اسٹیشن جنگل میں تھا اور بہت مختصر جیسا یہ تھانہ بھون کا اسٹیشن ہے کوئی جگہ اس پر ایسی نہ تھی کہ مسافر
آرام کر سکے یہاں پر تو بحمداللہ مسافر خانہ بھی تیار ہو گیا ہے اور منصف صاحب نے مجھ کو اس کی
اطلاع نہیں کی کہ میں اسٹیشن ماسٹر کو لکھ چکا ہوں اب جس وقت اسٹیشن پر پہنچے ادھر تو بارش ہو رہی
ادھر کوئی جگہ ایسی نہ تھی کہ کپڑے ہی بچا سکیں ادھر نماز کا وقت تھا عجب کشمکش تھی کہ وہ بابو آیا
اس نے مجھ سے میرا نام دریافت کیا نام سنکر اس نے ایک کمرہ میں ہم کو ٹھہرا دیا اور کہا کہ اس
میں آرام فرمائیے ـ منصف صاحب کا میرے نام پرچہ آیا ہے کہ فلاں شخص اسٹیشن پر آ رہا ہے اس کو
کوئی تکلیف نہ ہو ـ وہ کمرہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسباب وغیرہ کے رکھنے کا تھا وہاں پر آرام سے نمازیں ادا کیں جب مغرب کے وقت اندھیرا ہو گیا تو اس بابو نے ریلوے ملازم کو حکم دیا کہ دیکھو
اس کمرہ میں روشنی کا انتظام کر دو ـ یہ سن کر مجھ کو بڑی فکر ہوئی اور زیادہ اس وجہ سے کہ بابو ہندو تھا وہ
فکر یہ ہوئی کہ مسافر خانہ تو ہے نہیں اگر مسافر خانہ ہوتا تو یہ خیال ہوتا کہ اس میں ریلوے قانون سے
روشنی جائز تھی یہ تو اسباب کا کمرہ ہے صرف ہماری رعایت سے روشنی کی جاتی ہے تو اس صورت
میں ریلوے کے تیل سے انتفاع جائز نہیں ہو سکتا اس لئے بڑی کش مکش ہوئی ـ اگر بابو سے منع کیا
جاتا ہے تو یہ ہندو ہے بے وقوف بنادے گا اور ہنسے گا بات کو سمجھے گا نہیں ـ اب کیا کیا جائے اس
وقت یہی سوجھی کہ دعاء کرنا چاہئے لہذا میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! بچنے کی صورت گو اختیاری ہے
مگر یہ ضعیف ہے کہ اظہار پر شرم دامن گیر ہے اسلئے آپ ہی حفاظت فرمانے والے ہیں آپ ہی
حفاظت فرمائیں یہ خیال دل میں آنا تھا کہ فورا اسٹیشن ماسٹر نے اس نوکر کو آواز دے کر کہا کہ دیکھو
ریلوے کی لالٹین وہاں پر روشن نہ کرنا بلکہ ہمارے نج کی لالٹین روشن کر دینا یہ سن کر حق تعالی کے
انعام کا مشاہدہ ہو کر اس قدر جوش ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ـ
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ـ اب اس سے یعنی ہندو بابو سے کوئی پوچھتا کہ اس کو یہ
خیال کیوں پیدا ہوا خبر نہیں کیا جواب دیتا ـ یہ حق سبحانہ تعالی کی رحمت ہے کہ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں ـ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ـ (جو شخص تقوی اختیار کرنا چاہتا ہے حق تعالی اس کیلئے بچنے کی راہ نکال دیتے ہیں )
