فرمایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر یاد آیا ایک شخص نے ایک کم علم مگر ذہین
مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جو جنگ ہوئی اس میں حضرت معاویہ کا یہ فعل کس درجہ کا ہے ـ مولوی صاحب نے فرمایا کہ
بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اجتہادی خطاء ہے اور اس لئے وہ امر خفیف ہے حضرت والا نے فرمایا کہ
یہ ہی ہمارے بزرگوں کا عقیدہ ہے ـ یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ جس درجہ کا شخص ہوتا ہے اسی درجہ کی
اس کی خطاء ہوگی اس لئے اس خطا پر بھی شدید سزا ہونی چاہئے ـ مولوی صاحب نے فرمایا کہ ارے یہ کیا تھوڑی سزا ہے کہ ایک صحابی پر ہم نالائق یہ حکم کریں کہ انہوں نے خطاء کی ورنہ ہمارا کیا منہ تھا ہم گندے ناپاک اور وہ صحابی ـ
فرمایا واقعی عجیب و غریب جواب ہے ان ہی مولوی صاحب کا دوسرا واقعہ جس سے
ان کی حالت حب رسول کا پبہ چلتا ہے جیسا پہلا واقعہ حب صحابہ پر دال ہے یہ ہے کہ اول انہوں
نے یہ قصہ لکھا ہے کہ باوجود حضور ﷺ کی کوشش کے ابوطالب ایمان نہیں لائے اس کے بعد لکھا ہے
کہ اگر بجائے ابوطالب کے مجھ کو حق تعالی دوزخ میں بھیج دیں اور ابو طالب کو جنت میں تو میں
راضی ہوں کیونکہ میرے نبی ﷺ کی تو آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں یہ ان کی حالت ہے جن کا شمار
بڑے لوگوں میں نہیں مگر محبت کا اثر ہے بزرگوں کی ـ یہ لوگ خشک ہیں انہیں کو وہابی کہتے ہیں ـ
