ملفوظ 307: حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ فرمایا ! کہ میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی خدمت میں کانپور سے زیارت کیلئے حاضر ہوا رات عشاء کے بعد پہنچا ـ کیونکہ راستہ بھول گیا بڑی پریشانی ہوئی ـ اسی وقت رات کو ملا ـ ڈانٹ کر فرمایا کون ہو کہاں سے آئے ہو کیوں آئے ہو ـ میں نے کہا کہ طالب علم ہوں کانپور سے زیارت کیلئے آیا ہوں ـ فرمایا یہ آنے کا وقت ہے ـ میں نے خیال کیا کہ واقعی اتنی رات کو جانا خلاف سنت ہے فرمایا اس وقت کھانا کہاں سے لاؤں تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں ـ میں نے کہا کہ ہاں فرمایا کہ کچھ لے کر کھا لو اور صبح کو چلے جاؤ اور خادم سے فرمایا کہ فلاح جگہ ٹھہرا دو پھر تھوڑی دیر میں بلایا میں نے دل میں سوچا کہ کچھ اور یاد آیا ہوگا ـ مگر میرے دل میں کوئی رنج نہ تھا ـ میں پہنچا اور چٹائی پر بیٹھ گیا ـ فرمایا کہ یہں تخت پر بیٹھو ـ خادم سے فرمایا کہ کھانا لاؤ ـ کھانا آیا ـ ایک پیالہ میں دال اور اسی پر روٹی ـ خادم سے فرمایا تو بڑا بدتمیز ہے ـ اس طرح مہمان کے لئے کھانا لایا کرتے ہیں ــ پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا کھانا ہے میں عرض کیا کہ ارہر کی کی دال اور روٹی ہے فرمایا کہ آہا بڑی نعمت ہے تم تو لکھے پڑھے ہو مولانا محمد یعقوب سے پڑھا ہے اچھے آدمی تھے دیکھو صحابہ کیسی کلفت میں رہتے تھے ہم تو بہت نعمت میں رہتے ہیں ـ ذکر صحابہ کے جوش میں اٹھے میرے پاس آئے اور میری کمر پر ہاتھ رکھ کر جوش میں اشعار و احادیث پڑھتے رہے ـ پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ بیر لاؤں میں نے کہا کہ تبرک ہے فرمایا تبرک کیا ہوتا ـ یہ بتاؤ بیر کھا کر تمہارے پیٹ میں درد تو نہیں ہوتا میں نے کہا کہ نہیں بیر لائے ـ اس کے بعد فرمایا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سو جاؤ اور پھر صبح کو ملنا ـ میں نے اس وقت تک عشاء کی نماز نہ پڑھی تھی ـ میں نماز عشاء پڑھ کر سو رہا ـ صبح کی نماز اٹھ کر پڑھی اور بعد نماز ہماری طرف منہ کر کے اور مراقبہ کر کے بیٹھے ـ جمعہ کا دن تھا ـ ایک اور مہمان تھے ـ اور امیر شخص تھے ان کی جانب متوجہ ہوئے ـ دریافت فرمایا کب جاؤ گے ـ عرض کیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد فرمایا کیا ہوگا جمعہ کی نماز کے بعد ـ انہوں نے عرض کیا کہ پھر نماز جمعہ کہاں پڑھوں گا فرمایا ـ ہم کوئی تمہاری نماز جمعہ کے ذمہ دار ہیں غرض ان کو نکال دیا ـ میں سمجھا کہ اب تیرا نمبر ہے ـ میں نے خود ہی اجازت لیلی فرود گاہ تک مجھ کو پہنچانے تشریف لائے پھر میں واپس آ گیا ـ اس کے بعد کانپور میں سلام کہلا کر بھیجا کرتے تھے ـ میں نے حج کو جاتے وقت دعا کیلئے لکھا اس پر اپنے قلم سے یہ جواب دیا از فضل الرحمن سلام علیلم ـ دعائے خیر نمودم ـایک مرتبہ اور جانا ہوا تو شروع ہی سے اچھی طرح پیش آئے ـ گرمیوں کے رمضان شریف تھے ـ دو پہر کا وقت تھا لطف کی باتیں شروع کیں کہ ہم جب سجدہ میں جاتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے پیار کر لیا اور فرمایا کہ ہماری تمنا ہے کہ ہم کو قبر میں نماز کی اجازت مل جائے ـ عجیب و غریب ہوتی تھیں ـ جذب غالب رہتا تھا مگر اس پر بھی اتباع سنت کا نہایت اہتمام فرماتے تھے ـ ایک مرتبہ ایک جذامی کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا کیونکہ سنت ہے فرماتے تھے کہ وہ اتباع سنت کی برکت سے اچھا ہو گیا ـ اس دفعہ ہم لوگوں کو کئی دن تک اپنے پاس ٹھہرایا اور دونوں وقت میں کھانا امیرانہ آتا تھا ـ ایک واقعہ اس بار میں یہ ہوا ـ کہ حضرت کے پوتے گھر میں پٹاخے چھوڑ رہے تھے فرمایا ہم نے نہیں دیکھا پٹاخا ہم کو بھی دکھلاؤ کیا ٹھکانہ ہے کبھی پٹاخا بھی نہ دیکھا تھا ـ پٹاخے لائے گئے جب ایک چھوڑا گیا تو ڈر گئے فرمایا ہائے ری ـ پھر دوبارہ چھوڑا گیا تو نہیں ڈرے پانچ چھ چھوٹ جانے کے بعد فرمایا کہ بس جاؤ اب ہم کو ڈر لگتا ہے ـ
