قبول دعا کرامت نہیں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ قبول دعا کرامت نہیں اس لئے کہ دعا تو عوام کی بلکہ کفار کی بھی قبول ہوتی ہے ـ دیکھو اکفر الکفرۃ افجر الفکرۃ ( سب کافروں سے بڑھ کر کافر ـ اور سب فاجروں سے بڑھ کر فاجر ) شیطان تک کی دعا قبول ہوئی اور دعا بھی کیسی جو ممتنع عادی ہے اور حسب تصریح فقہاء سوء ادب ہے ـ شیطان نے کہا تھا انظرنی الی یوم یبعثون اور وہ دعا قبول ہو گئی پھر ایسے وقت میں جبکہ عتاب ہو رہا تھا مگر کم بخت عابد تھا سمجھتا تھا کہ یہ حالت بھی مانع قبول عرض نہیں ـ
