ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مولانا شہید صاحبؒ کے عنوانات ہی پر بد عتی ان کی تکفیر کرتے ہیں فرمایا یہی بات ہے مگر خود وہ عنوان ہی بے ادبی کے نہیں وہ سمجھ نہیں سکے اس وجہ سے اعتراض کرتے ہیں ـ دیکھئے ! ان عنوانات میں بڑا محل اعتراض عنوان یہ ہے کہ اگر خدا چاہے تو محمد جیسے سینکڑوں بنا ڈالے ـ جس میں ظاہرا تحقیر کا موہم ہے لفظ بنا ڈالے ـ اسی عنوان کو ایک صاحب نے حضرت مولانا احمد علی صاحب سہارن پوریؒ کے سامنے پیش کر کے اعتراض کیا تھا کہ حضرت اس میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر ہے فرمایا ہاں مگر فعل تحقیر ہے مفعول کی نہیں ـ اس پر وہ بولے کہ محض بات بنائی جاتی ہے ـ یہ حضرات بڑے عالی ظرف ہوتے ہیں یہ سن کر خاموش ہو گئے ـ ایک روز اتفاق سے یہی صاحب حضرت مولانا احمد علی صاحبؒ سے کہنے لگے کہ حضرت اب تو بیضاوی شریف بھی چھپوا ڈالئے ـ اس وقت حضرت نے فرمایا کہ یہ وہی ڈالنا ہے سو یہ بیضاوی کی تحقیر ہے ـ اور قرآن اس کا جزو ہے کل کی تحقیر جزو کی تحقیر ہے اور قرآن کی تحقیر کفر ہے جب تو آنکھیں کھلیں کہنے لگے واقعی آپ کی تحقیق صحیح ہے ـ واقعی میری مراد اس وقت بیضای کی تحقیر نہ تھی بلکہ چھانپے کی سہولت بتلانا تھا ـ اب ان کی سمجھ میں آیا ـ یہ ہیں علوم ـ یہ حضرات تھے صاحب کمال ـ خیر جی ہم ایسے نہ ہوئے تو کیا ہے الحمداللہ ! اللہ تعالی نے ہم کو ایسے بزرگ تو دیے ہم تو اس کا ہی شکر ادا کرتے ہیں کہ حق تعالی انے ایسے بزرگوں کا تعلق نصیب فرمایا ـ
