( ملفوظ 72 )ہندوستان میں نماز ، بزرگوں کی صحبت اور گائے کا گوشت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہندو اب وہ ہندو نہیں رہے ، اب تو بہت ہی حوصلے بڑھ گئے اور یہ سب مسلمانوں ہی کی بدولت یہ جو کچھ بھی ہوا خلط کی بدولت ہوا ۔ ان کے راز اور اسرار ان پر کھل گئے کہ نہ ان میں اتفاق ہے نہ مال ہےاور صاحب ان چیزوں میں سے اگر کچھ بھی نہ ہو پرواہ نہیں اگر ایک چیز ہو وہ دین ہے مسلمان اب بھی دین کے پابند ہوں تو تمام دنیا کی غیر مسلم اقوام ان کا کچھ نہیں بنا سکتیں ، نہ کچھ بگاڑ سکتی ہیں ، دور کیوں جائیں دین کی محض ایک رسم گائے کا گوشت ہے یہی ایسا ہے کہ وہ سپر بن سکتا ہے اور ہندوستان میں جن لوگوں کا یہ پیشہ ہے یعنی قصاب ان سے کسی وقت میں بھی ہندوؤں کو طمع نہیں ہوئی کہ ہمارا جادو ان پر اثر کر سکتا ہے ۔ میں تو کہا کرتا ہوں کہ تین چیزیں اس زمانہ میں مسلمانوں کی وقایہ ہیں ایک نماز ، دوسرے بزرگوں کی صحبت ، تیسرے گائے کا گوشت ۔ ایک مرتبہ میں خورجہ سے واپس ہو کر وطن آ رہا تھا کہ اسٹیشن شاہدرہ پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ دہلی کے چند احباب ملاقات کے لیے آئے ہوئے ہیں ۔ ان کہ ہمراہ کھانا تھا جو ہم لوگوں کی وجہ سے لائے تھے ، من جملہ اور کھانوں کے ایک دیگچی میں قیمہ بھی تھا اور اسمیں ایک گائے کی نلی کا ٹکڑا تھا ، گاڑی پر ہجوم ہونے کی وجہ سے کشمکش ہو رہی تھی ، کثرت ہجوم سے ڈبوں میں جگہ نہ ملتی تھی ۔ ایک دوست نے بہت ہی ظرافت سے کام لیا ، وہ یہ کہ ایک ڈبہ میں سوار ہو کر کھانے کا دستر خوان بچھا لیا جس میں گائے کا گوشت تھا ، ڈبہ کے اندر کے ہندؤں کا تو یہ معاملہ ہوا کہ جس نے دیکھا وہی رام رام کہ کر وہاں سے چلتا ہوا اور باہر کی آمد کا یہ انتظام کیا کہ کھڑکی پر بیٹھ کر اور ڈبہ سے سر نکال کر اور اس ہڈے کو منہ سے لگا کر جیسے بگل ہوتا ہے اس کا روغن کھانا شروع کر دیا اور جو ہندو ڈبہ کی طرف آتا اس کو وہ ہڈا دکھا دیتے اور کہتے کہ یہاں جگہ نہیں آگے جاؤ اس ہڈے کی صورت دیکھتے ہی ہندو ڈبہ کی طرف نہ آتا ۔ میں نے اس مناسبت سے کہ اس ہڈے کی بدولت سفر نہایت ہی آرام سے طے ہو گیا ، اس ہڈے کا نام سفری پستول رکھ دیا تھا ۔ اس واقعہ کے بیان سے یہ مقصود نہیں کہ ایسا کرنا مناسب ہے یہ محض ایک دل لگی تھی جو مناسب بھی نہ تھی ، مقصود میرا یہ ہے کہ گائے کے گوشت کا تلبس اثر کفر کے بعد میں خاص طور پر مؤثر ہے ۔