ایک صاحب نووارد حیدرآباد دکن سے حاضر ہوئے ۔ حضرت والا نےدریافت فرمایا کہ اس قبل کبھی آپ کا یہاں آنا ہوا یا خط و کتابت ہوئی اور اس وقت کے آنے کی مجھ سے اجازت چاہی یا خبر دی ، سب باتوں پر نفی کا جواب دیا ، فرمایا ، اب کے روز قیام کا ارادہ ہے عرض کیا کہ آج ہی واپس ہو جاؤں گا ، فرمایا کہ آج کا آنا تو آپ کا آنا تو کیا ہوتا
پائی کی برابر بھی نہیں ۔ عرض کیا کہ پھر دوبارہ حاضر ہوں گا اس وقت تو محض زیارت مقصود تھی ، بہت ہی جی چاہ رہا تھا کہ کسی طرح ایک نظر دیکھ لوں ، فرمایا کہ آپ کی محبت کی بات ہے ۔ ان صاحب کا لباس غیر متشرع تھا ، مزاحا حضرت والا نے کہا کہ اب جو آپ آئیں تو تھانوی ہو کر آئے گا ، حیدرآبادی بن کر نہ آئے گا ، عرض کیا انشاء اللہ تعالی ایسا ہی ہو گا ۔ پھر حاضرین سے فرمایا کہ حیدرآباد کے لوگوں میں اطاعت اور ادب کا مادہ بہت ہے وہاں تو لوگوں کو پیروں نے بگاڑا ان کے یہاں اس قدر خرافات ہیں جس کا کوئی حد و حساب نہیں ۔
