( ملفوظ 212 )اختیاری و غیر اختیاری کا فرق اور تقدیر کا حیلہ

( ملقب بہ اعتمال الافکار فی الاحتیال بالاقدار ) ایک پرچہ کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ اختیاری اور غیر اختیاری کا مسئلہ بہت احتیاط کر کے عرض کرتا ہوں کہ نصف سلوک ہے ورنہ کل ہی سلوک ہے اس مسئلہ کے نہ جاننے سے ایک عالم پریشانی میں ہے ۔ اس کو میں نے ایک مولوی صاحب کے جواب میں ایک خاص عنوان سے لکھا تھا وہ عنوان یہ تھا کہ اس طریق میں افعال مقصود ہیں جو کہ اختیاری ہیں انفعالات مقصود نہیں جو کہ غیر اختیاری ہیں اور یہ سمجھ کر لکھا تھا کہ عالم ہیں جواب کی قدر کریں گے ۔ انہوں نے قدر کی یہ لکھا کہ معلوم ہوا کہ یہ طریق بہت مشکل ہے حلانکہ اس خلاصہ سے زیادہ کیا آسان ہو گا مگر انہوں نے اس آسان کو مشکل سمجھا ، اصل یہ کہ بہت سے لوگ اس کے منتظر ہیں کہ اول دلچسپی پیدا ہو تو کام شروع کریں اور کام اس کا منتظر ہے کہ مجھ کو شروع کریں تو میں دلچسپی کے آثار پیدا کروں ، غرض اول دلچسپی پیدا ہو تو کام شروع ہو اور اول کام شروع ہو تو دلچسپی پیدا ہو یہ اس کا منتظر وہ اس کا منتظر ۔ یہ تو ایک اچھا خاصہ دور ہو گیا جو کبھی ختم ہونے والا نطر نہیں آتا اس غلطی میں ایک عالم مبتلا ہے یوں چاہتے ہیں کہ خود داعی ہی کی جانب سے فعل کو اضطراری ترجیح ہو جائے ۔ سو اگر یہ عقیدہ ہے کہ داعیہ پیدا کرنے والا بھی چونکہ خدا تعالی ہی ہے وہ اگر چاہیں گے داعیہ پیدا کر دیں گے نہ چاہیں گے نہیں پیدا کریں گے اس
لیے خود کچھ ارادہ ہی نہیں کرتے سو یہ عقیدہ جبری ہو گا اس کا علاج وہی ہے جو ایک حکایت میں مولانا رومی نے جبری عقیدہ کے مقبلہ میں نقل فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی باغ میںپہنچ گیا اور وہاں پہنچ کر اس باغ سے پھل توڑ کر کھانے شروع کر دیئے ، اتفاق سے مالک باغ بھی آ پہنچا اس نے دریافت کیا کہ کیوں صاحب اس باغ کا کوئی مالک بھی ہے اور آپ نے اس سے اجازت بھی لی ہے اس شخص نے کہا کہ باوا باغ کا مالک کون ہوتا ہے خدا مالک ہے زمین خدا کی ، درخت خدا کے ، پانی خدا کا ، ہوا خدا کی ، پھل خدا کے ، میں خدا کا ، منہ خدا کا ، بھوک خدا کی ، پیٹ خدا کا لا فاعل الا اللہ اور لا موجود الا اللہ
مالک نے کسی کو حکم دیا کہ ہمارا ڈنڈا اور رسی لاؤ اور ان صاحب کے ہاتھ پیر بندھوا کر دہ ڈنڈا دہ ڈنڈا ، اب میاں صاحب نے غل مچانا شروع کیا ، ہائے رے مرا مالک نے کہا کہ ہائے وائے کیا کرتا ہے میں خدا کا ، تم خدا کے ، رسی خدا کی ، ڈنڈا خدا کا یہ مار پیٹ خدا کی ۔
( لا فاعل الا اللہ لا موجود الا اللہ )
دو ڈنڈے اور رسید کیے تب تو میاں صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور اس جبری عقیدہ سے توبہ کی ۔ مولانا فرماتے ہیں :
گفت توبہ کردم از جبرائے عیار اختیار است اختیار است اختیار
( سوائے خدا کے کوئی کرنے والا نہیں اور سوائے خدا کے کوئی موجود نہیں ۔ )
( کہنے لگا کہ عقیدہ جبر سے توبہ کرتا ہوں بے شک بندہ کو اختیار ہے ۔ )
کچھ نہیں یہ سب کم سمجھی اور بد فہمی کی باتیں ہیں ۔ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ اختیار ہے جب اثبات اختیار میں نفس کی غرض ہو اور ایک طرف اختیار کی نفی کرتے ہیں جب نفی میں غرض ہو اس کا علمی جواب تو ہے مگر جہلی جواب زیادہ مناسب ہے جو حکایت بالا میں مذکور ہے اس میں کوئی حرج شبہ ہی نہیں رہتا ، اول ہی بار میں صبح ہو جاتی ہے اور آدمی روشنی میں آ جاتا ہے ۔ شیطان نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میری تقدیر میں سجدہ تھا یا نہیں اگر ہوتا تو میں ضرور کرتا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تھا تو پھر میں کیوں قصوروار ٹھرا ، جواب ملا کہ اب باتیں بناتا ہے اس وقت تیری یہ نیت کب تھی کہ تقدیر کی موافقت کر رہا تھا اس وقت تو تکبر اور شرارت سبب تھا

یہ تو اب معلوم ہوا کہ تقدیر میں تھا یا نہیں ۔ یہ بات بھی قابل لحاظ ہے کہ یہ جو طرز آج کل ہے کہ شبہات کا جواب دیا جاتا ہے اس سے شبہات کا اسقاط نہیں ہوتا گو اسکات ہو جاتا ہے ۔ معترض ساکت ہو جاتا ہے البتہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کافی طور پر کارآمد ہو سکتی ہے ۔ اب صرف یہ سوال رہ گیا کہ محبت کے پیدا کرنے کا طریقہ کیا ہے سو وہ یہ ہے کہ جو اپنے اندر محبت پیدا کر چکے ہیں ان کی جوتیوں میں جا پڑے ۔ جس کو مولانا فرماتے ہیں :
قال رابگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
( قال کو چھوڑ اور حال پیدا کر اور کسی کامل کے آگے اپنے کو پامال کر دے ۔ )
اگر ان کی صحبت میسر آ جائے بڑی دولت ہے اس لیے کہ عشاق کے مجمع میں جا کر عاشق ہو جاتا ہے ، نمازیوں کے مجمع میں جا کر خود بخود نمازی ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح محبین کے مجمع میں جا کر محب ہو جاتا ہے اور اگر کسی عارض سے محبت پیدا نہ ہو تو ایک دوسرا طریق بھی ہے وہ خوف ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ اگر حاکم سے محبت نہ ہو تو خوف کے سبب اس کے احکام کے خلاف نہیں کر سکتا ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ خوف کس طرح پیدا کیا جائے ؟ فرمایا یہ بھی کوئی مشکل بات نہیں جہاں مضرتوں کا مراقبہ کیا خوف پیدا ہو گیا وہ مضرتیں یہ ہیں مثلا جہنم ہے قبر ہے محشر ہے موت ہے ان کے استحضار اور مراقبہ سے خوف پیدا ہو سکتا ہے بس اس کے لیے دو ہی طریقے ہوئے ایک محبت اور ایک خوف ایک کا حاصل ترغیب ہے اور ایک حاصل ترہیب ۔