ایک صاحب بلا اجازت چپکے سے آ کر مجلس میں بیٹھ گئے ۔ حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ میں نے آپ کو پہچانا نہیں ، عرض کیا کہ میں فلاں جگہ سے آیا ہوں ۔ دریافت فرمایا کہ اس سے قبل کبھی ملاقات ہوئی ہے عرض کیا کہ نہیں ، پوچھا کوئی خط آنے کے متعلق لکھا تھا ؟ عرض کیا کہ لکھا تھا پوچھا پھر آ کر دکھایا تھا ؟ عرض کیا کہ نہیں ، فرمایا پھر میں کیسے پہچانتا کیا مجھ کو علم غیب ہے آپ لوگ کیوں ستاتے ہیں اور پریشان کرتے سسہیں ، پوری بات آتے ہی کیوں نہیں بیان کر دی گئی ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ یہ صاحب تو وہ ہیں جن سے آتے ہی خط نہ دکھلانے پر کل مواخذہ ہو چکا ہے فرمایا کہ اتنی کھود کرید پر بھی انہوں نے ظاہر نہیں کیا یہ ہی کہنا چاہیے تھا کہ میں کل آیا ہوں اور یہ گفتگو آ چکی ہے یہ کون سی ایسی باریک بات تھی جو سمجھ میں نہیں آئی نہ معلوم ایچ پیچ میں لوگوں کو کیا مزہ آتا ہے ۔ فرمایا کہ آئندہ ایسی بات سے احتیاط رکھئے گا جہاں پر جاؤ پوری اور صاف بات کہہ دو تا کہ دوسروں کو تکلیف اور الجھن نہ ہو تو بڑی اصلاح اس کو ہی میں سمجھتا ہوں کہ ااپنے سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو لوگوں کو اس کی قطعا فکر نہیں کہاں تک اصلاح کی جائے عجب ہڑ بونگ مچی ہوتی ہے ۔ ( انا للہ و انا الیہ راجعون )
