( ملفوظ 425 ) امام شافعی کے چند دلچسپ واقعات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحیح اصول بھی حضرات اہل اللہ ہی کو نصیب ہیں دنیا دار کو یہ بھی نصیب نہیں ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بصورت مہمان پہنچے ، کھانے کے وقت خادم نے اول امام شافعی کے ہاتھ دھلانے چاہے ، امام مالک صاحب نے فرمایا کہ پہلے ہمارے ہاتھ دھلاؤ پھر خادم نے پہلے کھانا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے رکھنا چاہا ، امام مالک صاحب نے فرمایا کہ پہلے ہمارے سامنے کھانا رکھو اس کے بعد کھانا بھی خود ہی شروع کر دیا ۔ میری سمجھ میں اس کی جو حکمت آئی وہ یہ ہے کہ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان کو کھانے میں سبقت کرتے ہوئے ایک قسم کا حجاب ہوتا ہے تو امام مالک کو اصل تو کھانے میں اپنی تقدیم مقصود تھی مگر جو مقصود کا حکم ہوتا ہے وہی مقدمات کا حکم ہوتا ہے اس لیے کھانے کے مقدمات میں بھی تقدیم کی ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ایک رئیس کے یہاں مہمان تھے ان کے یہاں غلام کو کھانے کی فہرست دے دی جاتی تھی کہ اس کے مطابق کھانا تیار کر کے لا دے ، ایک روز امام شافعی نے اس سے فہرست لے کر اس میں ایک کھانے کا اضافہ کر دیا ۔ عین کھانے کے وقت میزبان نے دیکھا کہ ایک کھانا دسترخوان پر زائد ہے ۔ غلام سے وجہ دریافت کی اس نے عرض کیا کہ حضرت امام صاحب نے ایک کھانے کا اضافہ فہرست میں فرما دیا تھا اس سے میزبان کو اس قدر خوشی حاصل ہوئی کہ اس غلام کو آزاد کر دیا محض اس کی خوشی ہوئی کہ مجھ پر مہمان نے فرمائش کی قدر دانی بھی ہو تو ایسی ہو اور مہمان نوازی اس کو کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذاق محبت اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرمایا کرتے تھے کہ جب سے مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہوا کرے گی تب سے جنت کی تمنا کرنے لگا ۔ واقعی یہ خط تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے ۔ پھر فرمایا اس باب میں میری طبیعت ایک خاص رنگ کی ہے وہ یہ کہ مجھ کو کسی سے ملنے کا اشتیاق نہیں ہوتا البتہ مل کر مسرت ہوتی ہے اشتیاق و انتظار سے آزادی یہ سب مجذوب صاحب کا اثر ہے جن کی دعاء سے پیدا ہوا ہوں ۔