( ملفوظ 427 )شیخ کی ضرورت اور سلب نسبت کی تحقیق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر فہم سلیم ہو تو پھر شیخ کی ضرورت نہیں ، کتاب و سنت پر عمل کیا جائے کافی ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا اس قدر فہم سلیم ہو سکتا ہے ؟ فرمایا ہو سکتا ہے مگر قلیل باقی جو اس قدر فہم سلیم نہ رکھتا ہو اس کو اس راہ میں بدون شیخ کے قدم رکھنا نہایت خطرناک ہے اس وقت نہ کتاب سے کام چلے گا نہ اپنی رائے سے ۔ اسی لیے فرماتے ہیں کہ :
جملہ اوراق و کتب در نارکن سینہ را از نور حق گلزار کن
البتہ کتابیں معین ضرور ہیں ، کتابیں پڑھنے والا جس قدر سمجھ سکتا ہے نہ پڑھنے والا سمجھ نہیں سکتا ۔ پس یہ شرط کے درجہ میں ہے علت کے درجہ میں نہیں اور یہ جو میں کہا کرتا ہوں کہ اختیاری کا ترک بھی اختیاری ہے تو پھر پیر کی کون سی ضرورت ہے ۔ یہ کتابوں کی مدد سے نہیں کہتا یہ بھی شیخ ہی کی صحبت کا فیض ہے ورنہ کتابیں اوروں سے زیادہ ہم نے بھی نہیں پڑھیں ۔ پس یہ سب کچھ صحبت شیخ ہی کی بدولت ہے اور یہ ضرورت شیخ کی ایسی ہے کہ جیسے کسی بچہ کا باوا چاہے جنوا کر مر جائے پرورش میں اس کی ضرورت نہیں مگر جنوانے میں تو ضرورت ہے باوا کی یا جیسے مرغی کے نیچے انڈے رکھتے ہیں تو ضرورت تھی مرغی کی لیکن اگر انڈے بطخ کے ہیں تو بچے نکلنے کے بعد خود مرغی تو دریا کے کنارے کھڑی ہے اور اس کے بچے تیر رہے ہیں یہ تفاوت استعداد کا ہے پس ممکن ہے کہ مرید اکمل ہو جائے پیر سے مگر تربیت کے لیے اس کو بھی پیر کی ضرورت ہو گی پھر بعد حصول مقصود بعض اوقات پیر کو مرید کے مقام کی خبر بھی نہیں ہوتی یہاں سے ایک شخص کا جہل بھی ثابت ہو گیا ہے جو اپنے شیخ کے ساتھ گستاخی کرنے سے مسلوب الحال ہو گیا تھا مگر وہ اس گمان میں تھا کہ میں صاحب حال ہوں جب دوسروں کے کہنے سے اس کو شبہ واقع ہوا تو اس نے ایک مجذوب سے کہا کہ دیکھنا مجھ میں نسبت باقی ہے یا نہیں ؟
اس کی ایسی مثال سمجھ لو کہ ایک ضعیف الباہ شخص کسی طبیب سے کہے کہ میرا خاص بدن پکڑ کر دیکھ کہ میں مرد ہوں یا نہیں ۔ اس سے خود معلوم ہو گیا کہ مرد نہیں دوسروں سے معلوم کراتا پھرتا ہے ۔ یہی حالت اس مسلوب الحال کی تھی اور اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ابتداء ہی سے جو محجوب ہو وہ اتنا برا نہیں جس قدر مسلوب الحال برا ہوتا ہے محجوب کو نسبت حاصل ہو سکتی ہے مگر مسلوب النسبت کو عادۃ پھر نسبت حاصل نہیں ہوتی اور یہ مسلوب کہنا باعتبار ظاہر کے ہے ورنہ واقع میں یہ شخص صاحب نسبت ہی نہیں ہوا تھا کیونکہ نسبت حقیقی حاصل ہو کہ پھر غیر اہل نسبت نہیں ہو سکتا جیسے پھل پک کر کچا نہیں ہوتا یا بالغ ہو کر نابالغ نہیں ہو سکتا ۔ گو غلطی سے اس کو شبہ ہو گیا کہ میں صاحب نسبت ہو گیا جیسے صبح کاذب کو کوئی صادق سمجھ لے جس کو مولانا فرماتے ہیں :
اے شدہ تو صبح کاذب رار ہیں صبح صادق راز کاذب ہم ہیں
نابالغی کے زمانہ میں کسی کا نکاح ہو گیا ، کچھ عارضی جوش اٹھا مگر عورت کے پاس جا کر دیکھا کہ اب کچھ نہیں تو حقیقت میں وہ بلوغ نہ تھا دھوکہ ہوا بلوغ کا ، حاصل یہ ہے کہ بلوغ کا جو درجہ مطلوب ہے وہ نہیں ہوا اس لیے اپنے خیال پر اعتماد نہ کرے ، شیخ کی شہادت کا انتظار کرے اور شیخ کو حقیقی تعلق مع اللہ کا جو کہ محض غیب ہے علم نہیں ہوتا مگر نقص کا تو علم ضروری ہے پس شیخ عالم الغیب نہیں ہوتا مگر عالم العیب ہوتا ہے ۔ اسی طرح شیخ کا صاحب کشف ہونا صاحب الہام ہونا ضروری نہیں حتی کہ شیخ کا من الحیث الشیخ صاحب تقوی ہونا بھی ضروری نہیں ، غیر متقی صحیح راہ بتلا سکتا ہے البتہ شیخ اگر متقی ہو گا اس کی تعلیم میں برکت ہو گی ۔ اگر متقی نہ ہو گا برکت نہ ہو گی ، البتہ حق کا جاننا شیخ کے لیے ضروری ہے مگر ولی و مقبول ہونا شیخ کے لیے شرط نہیں ، یعنی افادہ کی ۔