( ملفوظ 173 )انتقال ہوتے ہی مال ورثاء کی ملکیت میں آ جاتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل احکام شریعت کی پابندی تو اکثر مشائخ تک میں بھی نہیں پائی جاتی عوام بیچارے تو کس شمار میں ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ بکثرت جاہل پیر بنے ہوئے ہیں پھر وہ کیا پابندی کرتے ۔ ایک پیر صاحب یہاں پر آئے ہوئے تھے ایک صاحب کی رقم مد ختم میں دعاء صحت کے لیے آئی ہوئی تھی ان کے انتقال کی خبر پا کر میں نے رقم واپس کی اس پر پیر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تو مد ختم کی رقم ہے اس کو واپس کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ بقیہ رقم میں ان کے لیے دعائے مغفرت کرا دی جایا کرے ، بیچاروں کو یہ بھی خبر نہیں کہ اب وہ رقم ان کے ورثاء کی ہو گئی ، اس میں تصرف کیسے جائز ہے ۔ دوسرے مغفرت محض دینی مقصد ہے اس پر اجرت لینا کہاں جائز ہے اور یہاں مالک رقم کا پورا پتہ اس ہی وجہ سے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ ایسے موقع پر رقم واپس کرنے میں دقت نہ پیش آئے ۔ نیز اگر رقم داخل کرنے والا کسی وجہ سے خود بھی واپس کرانا چاہے تو واپس ہو سکے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ کیا یہ مراد ہے کہ وہ دعاء منقطع کرنا چاہے ، فرمایا کہ ہاں یہ بھی اور اس کے علاوہ اور بھی صورتیں ہیں ، مثلا کام ہو گیا اور کوئی وجہ ہو تو اس صورت میں جو کچھ رقم صرف سے باقی رہی ہو گی ، واپس کر دی جائے گی ۔