( ملفوظ 174 )لوگوں نے ملانوں کو غلام سمجھ رکھا ہے

ایک دیہاتی شخص نے آ کر ناتمام بات کہی اور کچھ پہلے کہے ہوئے کا مجمل حوالہ دیا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ پوری بات کہو ۔ گزشتہ بات مجھ کو بالکل یاد نہیں ۔ اس طرح واقعہ بیان کرو کہ جیسے ابھی پہلے پہلے کہہ رہا ہوں گزشتہ بات کے بھروسہ اختصار مت کرو ، یہ سمجھ کر کہو کہ یہ کہنا اور ہی بار ہے اس پر بھی اس شخص نے ادھوری ہی بات کہی ۔ فرمایا کہ اگر خود سمجھ نہ ہو تو آدمی سمجھ لے ، جو میں کہہ رہا ہوں اس کو بندہ خدا سنتا ہی نہیں ، اپنی ہی ہانکے چلا جاتا ہے اب میں دوسری طرح کہوں گا کہ عقل درست ہو جائے گی ، اب جو میں نرمی سے کہہ رہا ہوں اس کی نہ کچھ قدر ہے اور نہ پرواہ ہے کہ دوسرا کیا کہہ رہا ہے وہ اس پر بھی کچھ نہ بولا ۔ فرمایا کہ اب خاموش بیٹھا ہے جیسا بت ہو اچھا جاؤ چلو یہاں سے مہمل آدمی آتے ہیں پریشان کرنے کو اس پر وہ شخص کچھ کہنا چاہتا تھا ، فرمایا کہ اب کچھ نہ سنوں گا ، دس منٹ ہوئے سانپ کی طرح کھلاتے ہوئے نواب بنا بیٹھا رہا ، خبردار جو کبھی یہاں آیا ان لوگوں نے ملانوں کو تو غلام سمجھ رکھا ہے کہ ہر ادا میں ان کے تابع رہیں ۔