( ملفوظ 367 ) اس زمانہ میں ایمان کے لالے پڑ رہے ہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل اس قسم کے خطوط بصورت دھمکی کے اکثر آتے ہیں کہ یا تو افلاس کا علاج یا تدبیر بتلاؤ ورنہ تبدیل مذہب کی نوبت آ جائے گی ۔ میں ایسے موقع پر نہ سختی کرتا ہوں اس لیے کہ اس سے اشتغال ہو گا اور اشتغال میں زیادہ اندیشہ ہوتا ہے اور نہ نرمی کرتا ہوں اس سے چاپلوسی کی سی صورت معلوم ہوتی ہے یہ بھی مضر ہے ۔ بس یہ اکثر لکھ دیتا ہوں کہ اس قدر تکلیف پہنچی ہے کہ جواب دینے کی ہمت نہیں ، تجربہ سے یہ جواب بہت ہی مفید ثابت ہوا ۔ اکثر جواب میں ندامت اور توبہ ہی لکھی ہوئی آتی ہے یہ وہ زمانہ ہے کہ ایمان ہی کے لالے پڑے ہوئے ہیں کہ افلاس کے سبب اسلام چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں پیسہ کی قدر کرنی چاہیے اور فضول اخراجات سے مسلمانوں کو اجتناب کی سخت ضرورت ہے ۔ آج کل فضول خرچ کرنے والے کو سخی سے تعبیر کرتے ہیں جو غلط ہے وہ شخص مسرف ہے جو بے موقع اور بے محل خدا کی عطاء کی ہوئی نعمت کو صرف کرتا ہے اور یہ معصیت کی ایک فرد ہے ۔