ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب جو بظاہر لکھے پڑھے بھی معلوم ہوتے تھے کہنے لگے کہ تمہاری تصانیف دیکھ کر حقیقت کا انکشاف ہوا ، بڑی زبردست غلطیوں میں ابتلاء تھا ، یکسوئی اور کیفیت پیدا ہونے کو نسبت مع اللہ سمجھتا تھا ۔ بات یہ ہے کہ بدون رہبر کامل کے اس طریق میں قدم رکھنا خطرہ سے خالی نہیں اس راہ میں یہ بڑی ضروری چیز ہے کہ استفادہ کے لیے مصلح کی تقلید کرے ۔ میری ان تمام تر سعی اور کوششوں و تدابیر سے غرض یہی ہے اور یہی چاہتا ہوں کہ سب کام کے ہو جائیں اجی نام کے تو سب ہیں ہی اور اگر کسی اور کے کام کے نہ ہوں تو اپنے ہی کام کے ہو جائیں اور یوں ہی بھرتی بھر دی ، کیا مطلب کوئی فوج تھوڑا ہی جمع کرنا ہے اور اگر کسی کو فوج بھی مقصود ہو تو فوج بھی وہی ہے جو کارآمد ہو بے کار تو فوج بھی کارآمد نہیں ۔ یہ تو ایسی بات ہے جیسے آج کل سنا ہے بعض مدارس میں حدیث کا دورہ ہوتا ہے ۔ ایک پارہ نو ماہ میں اور انتیس پارے ایک ماہ میں ایسی صورت مدارس میں ظاہر ہے کہ کیا خاک کام ہو گا سوائے نام کے اور طلبہ کیا سمجھتے ہیں سوائے اس کے کہ تعداد گنوا دی جائے کہ امسال اس قدر فارغ ہوئے تو کیا تعداد مقصود ہے جب کام ہی نہ ہو اور جب یہ حالت ہے تو ایسی باتوں پر روک ٹوک کرنے والے سے کون خوش ہو سکتا ہے ، خیر سے ہوں ناراض جوتی سے وہ کتمان حق کر کے اپنی گردن پر کوئی بوجھ تھوڑا ہی رکھ سکتا ہے ۔
