( ملفوظ 296 ) اصلاح میں رعایت کرنا نقصان دہ ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے تو ملانوں کو بھیڑ سمجھ رکھا ہے اور بعض نے بھیڑیا پاس بھی نہیں آتے مگر ہماری جوتی سے نہیں آتے ہم اپنی طرف سے خدمت کو تیار ہیں اگر ہم پسند آئیں خدمت لو ورنہ جاؤ بلانے کون جانتا ہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انبیاء کرام پر تو تبلیغ فرض تھی اس لیے وہ کلفت زیادہ برداشت فرماتے تھے اور اب جبکہ حق سب کو پہنچ گیا ، فرض نہیں الا نادرا اسی سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انبیاء علیہم السلام کا تحمل انبیاء علیہم السلام کا ضبط انبیاء علیہم السلام کا صبر کون کر سکتا ہے اس لیے خود کسی کو لپٹنے کی ضرورت نہیں البتہ اگر کوئی خود اپنی اصلاح کی درخواست کرے اس کی خدمت ضروری ہے مگر بلا رعایت کیونکہ اگر ایسی رعایتیں کی جائیں تو اصلاح کس طرح ہو جیسے طبیب نبض دیکھ کر سمجھ تو لے کہ بخار ہے مگر رعایت کر کے کہے کہ بخار نہیں بلکہ گرم چیز کھانے سے نبض جلدی جلدی چلنے لگی ہے ۔ یہ تاویل ہے تو کیا مریض کو اس طریق سے صحت ہو سکتی ہے یا مریض کہے کہ بخار نہیں ہے بلکہ دوڑ کر آیا ہوں اس لیے نبض جلدی جلدی چل رہی ہے ۔ سو اگر طبیب ایسا کرے تو خیانت ہے اور اگر مریض ایسا کرے تو جہالت ہے ۔ شفیق طبیب تو یہی کہے گا کہ جا تو کیا جانے ہم جانتے ہیں جو مرض ہے اسی کے ساتھ یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ طبیب مریض کو مرض یا علاج کی حقیقت سمجھانا چاہے تو قیامت تک نہیں سمجھا سکتا ۔ اس کی صرف ایک ہی واحد صورت ہے کہ طبیب تدابیر بتلائے اور مریض عمل کرے ۔