( ملفوظ 295 )سادگی عظمت کی دلیل ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ سلاطین کی خوبیوں میں اس سے اس کو تو شمار کیا گیا کہ وہ سادہ لباس پہنتے تھے مگر مؤرخین نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ سو روپیہ گز کا کپڑا پہنتے تھے ۔
یہ سادگی علو اور عظمت کی دلیل ہے ۔ میں جب کسی کو بنا ٹھنا دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ نہایت پست خیال شخص ہے اگر بلند ہمت ہوتا تو اس کی اس کو فرصت ہی نہ ملتی جو شخص علوم عالیہ میں مشغول ہوتا ہے اس کا ذہن ہی ان چیزوں تک نہیں پہنچتا اور اہل دین جو مقتداء کہلاتے ہیں ان کو بننے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے : ( ایں ہمہ زینت زناں باشد ) اور دوسرے مصرعہ کی جگہ الی آخرہ فرما دیتے ہیں یہ بھی ایک مزاج ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہرقل اپنی جگہ تھرا رہا ہے اور کسری اپنی جگہ ۔ ہرقل کا بھیجا ہوا سفیر مدینہ آتا ہے اور اہل مدینہ سے دریافت کرتا ہے :
گفت کو قصر خلیفہ اے حشم تامن اسپ و رخت را آنجا کشم
قوم جواب دیتی ہے :
قوم گفتندش کہ اور اقصر نیست مرعمر را قصر جان روشنے است
حضرت ان کی شان اور شوکت بدون بنے ٹھنے ہی ہوتی ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست