( حسن الانتظام فی الاسلام مشتمل برد و ملفوظ ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جمعہ کے روز باہر کے لوگ آتے ہیں مصافحہ کی بھرمار ہوتی ہے مجھے بڑی کلفت ہوتی ہے بڑے بے ڈھنگے پن سے لوگ مصافحہ کرتے ہیں ۔ میں نے یہ انتظام سوچا ہے کہ اس موجودہ صورت میں تو تکلیف ہوتی ہے حوض کے کنارے پر جا کر بیٹھ جایا کروں گا اور پھر چاہے ایک گھنٹہ مصافحہ میں صرف ہو رنگون میں انتظام ٹھیک ہوا تھا بعد وعظ دو شخصوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈال لیے ، ہاتھ خالی ہی نہ تھے جو کوئی مصافحہ کرے لیجا کر موٹر میں بٹھلا دیا اس پر ایک حاکم انگریز نے جو مجلس میں موجود تھا لکھا تھا کہ ایسا شخص کیا فساد کر سکتا ہے جو اس قدر کمزور ہے کہ دو شخصوں نے ہاتھ پکڑ کر موٹر میں بٹھلایا ۔ صاحب بہادر تھے بڑے محقق یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے آج کل ان کے مقلد عقلاء قرآن و حدیث سے کیا کرتے ہیں ۔ فساد کا قصہ یہ ہے کہ مخالفین نے ایک درخواست حاکم کے یہاں دیدی تھی کہ یہ شخص اگر وعظ کہے گا تو اندیشہ فساد کا ہے اس انگریز نے کہا تھا وعظ سننے کے بعد کہ جو لوگ ایسے وعظ کی مخالفت کرتے ہیں وہ بد قسمت ہیں ۔ فرمایا کہ یہ بات جو اس نے کہی کچھ سمجھتا ہو گا اس انگریز کی ظاہری تہذیب سنئے کہ مہتمم وعظ سے اجازت لے کر مجلس میں آیا کہ اگر اجازت ہو تو ہم اندر مجمع کے جا کر بیٹھ جائیں ۔ گو یہ حقیقی تہذیب نہیں محض نقل تہذیب ہے مگر یہ سب اسلام اور مسلمانوں سے سیکھی ہیں ۔ اصل چیز تو ہمارے یہاں کی ہے مگر افسوس ہے کہ ہم کو اس سے محض اجنبیت ہو گئی حتی کہ ایک صاحب نے میرے متعلق کہا تھا کہ اس کے مزاج میں تو انگریزوں جیسا انتظام ہے میں نے سن کر کہا کہ غلط ہے یہ تو ہمارے گھر کی چیز ہے یوں کہو انگریزوں میں ہمارا جیسا انتظام ہے اور پھر بھی حقیقت ان کے پاس نہیں وہ اس طرح سے کہ ان کا انتظام دنیوی مصلحت کے لیے ہے جو بدلتی بھی ہے اور ہمارا انتظام حق تعالی کی خوشنودی کے لیے جو کبھی نہیں بدلتا ۔ پھر اس انتظام پر ایک قصہ فرمایا کہ حضرت مقداد ایک صحابی ہیں وہ مع بارہ تیرہ آدمیوں کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے مہمان تھے ۔ آپ نے ان کو بکریاں بتلا دیں تھیں کہ دودھ نکال کر پی لیا کریں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا حصہ رکھ دیا کریں ۔ اکثر حضور عشاء کے بعد ایسے وقت تشریف لاتے کہ یہ حضرات سونے کے لیے لیٹ جاتے مگر آپ تشریف لا کر جو سلام کرتے تو ایسی آواز سے کہ اگر یہ جاگتے ہوں تو سن لیں اور اگر سوتے ہوں تو نیند خراب نہ ہو ۔ کیا ٹھکانہ ہے اس رعایت کا ورنہ اگر آپ ان کو جگا کر دوڑاتے بھی تو صحابی کیا عذر کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ اب بتلائیے یہ تعلیم کس کی ہے اور کس کے گھر کی ہے مگر افسوس اس تعلیم سے مسلمانوں کی اجنبیت کا یہاں تک درجہ پہنچ چکا ہے کہ اس کو دوسروں کی چیز بتلانے لگے ۔ افسوس صد افسوس اور محض عدم علم ہی تک بس نہیں اس تعلیم کی ضد کو عملی جامہ پہنا کر دکھا دیا ۔ میں سیوہارہ میں ٹھرا ہوا تھا شب کو ذرا بے آرام رہا تھا ، صبح کے وقت ذرا لیٹ گیا ۔ ایک صاحب حج کو جا رہے تھے غالبا ست آٹھ بجے صبح کا وقت ہو گا وہ صاحب مصافحہ کی غرض سے آئے ، اول تو آ کر بڑے زور سے سلام کیا آنکھ تو ان کے سلام ہی سے کھل گئی تھی مگر میں نے کہا کہ بچہ جی میں بھی ہر گز مصافحہ نہ کروں گا ۔ غرضیکہ میں نہیں اٹھا ، جب ان کو مایوسی ہو گئی بس اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے کر اور کچھ گھس گھسا کر چلتے ہوئے یہ حالت تو ان کی ہے جو دیندار کہلاتے ہیں دنیا داروں کا اس سے خود ہی اندازہ ہو جائے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں دین و دنیا سب کچھ سکھا دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم شب کو قبرستان میں تشریف لے جانے کے لیے آہستہ سے اٹھے ، آہستہ نعلین پہنے ، آہستہ سے کواڑ کھولے ، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوال پر فرمایا کہ یہ میں نے اس لیے کیا کہ تم جاگ جاؤ اور تنہا گھبراؤ ۔ لیجئے بیوی کا اس قدر خیال ہے جو ہر طرح تابع ہے اب باوا کا بھی وہ خیال نہیں جو ہر طرح متبوع ہے غرض یہ کہ کسی میں بھی یہ فکر نہیں کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہو ۔
