ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں نہ مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ اوروں سے مجھے اور ایک یہ چاہتا ہوں کہ جب دعوی محبت کا لے کر آتے ہیں اس کا حق ادا کریں میرے بدنام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اور مشائخ اور پیروں نے تو قسم کھا لی ہے کہ کچھ نہ کہا جائے اور میں کہتا ہوں ان کے کانوں کے کیڑے یہیں آ کر جھڑتے ہیں ، ان بیچاروں کو کسی نے نہیں بتلایا اس لیے بیہودہ رسمیں عام ہو گئی ہیں اور میں بھی کچھ نہ کہتا مگر دو وجہ سے کہنا پڑتا ہے ایک تو میں اپنی وجہ سے کہتا ہوں کہ مجھ کو پریشان نہ کریں اور دوسرے ان کے دین کی وجہ سے کہتا ہوں کہ اگر ایسا نہ کیا تو اصلاح کیسے ہو گی ، نہ کہنے اور خاموش رہنے کو میں خیانت سمجھتا ہوں ، آخر کیا وجہ کہ نہ کہا جائے ، آخر ہم ہیں کس مرض کی دوا ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اگر بینم کہ نابینا و چاہ است اگر خاموش بنشینم گناہ است
( اگر میں دیکھوں کہ ایک اندھا ہے اور سامنے کنواں ہے تو اگر میں خاموش بیٹھا رہوں تو گناہ ہے ۔ 12)
