( ملفوظ 59 ) استفسار پر اپنی رائے کا اظہار کر دینا ہی ادب ہے

ایک نو وارد صاحب نے درخواست بیعت کی ـ حضرت والا نے بیعت کے متعلق اصول اور قواعد
بیان کر کے فرمایا کہ اب ان اصول اور قواعد کو سن لینے کے بعد جو رائے قائم کی ہو وہ بتلا دو ـ اس پر ان صاحب نے عرض کیا کہ جو حضرت کی رائے ہو فرمایا کہ قواعد بتلانے کے بعد استفسار کے جواب میں یہ کہنا کہ جیسے رائے ہو نہایت بد تہزیبی ہے ـ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ استفسار لغو ہے کیا کلام کی معاشرت کا کوئی ادب نہیں ـ استفسار پر اپنی رائے کو ظاہر کرنا چاہئے ـ دوسرے لغو پر بوجھ ڈالنا خلاف تہزیب ہے ـ کام تو اپنا اور بوجھ دوسرے پر یہ کیا لغو حرکت ہے ـ مجھے کیا خبر کسی کی مصلحت کی اور جب خبر نہیں ـ میں کیا رائے دے سکتا ہوں ـ آدمی کو فہم سے کام لینا چاہئے ـ
دوسرے پر بوجھ ڈالنا یا ستانا یہ کو نسی عقلمندی کی بات ہے لوگوں میں فہم کا اس قدر قحط ہو گیا ہے کہ
موٹی موٹی باتوں کو نہیں سمجھتے ـ یہ کونسی باریک بات تھی ـ جس کا جواب خود نہیں دے سکے ـ مجھ پر بار
ڈالنا چاہتے ہیں ـ خود تجویز کر کے مجھ کو بتلانا چاہئے ـ اس پر بھی وہ صاحب خاموش رہے ـ حضرت والا کے مکر سہ مکر فرمانے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا ـ فرمایا کہ اسوقت آپ یہاں سے اٹھ جائیے ـ آپ تکلیف پر تکلیف پہنچا رہے ہیں ـ جس وقت جواب سمجھ میں آجائے ـ اسوقت آئیے اور آکر مجھ کو اطلاع کر دیجئے وہ صاحب مجلس سے اٹھ کر چلے گئے ـ

15 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ