ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق بالکل مردہ ہو چکا تھا ـ لوگ بیحد غلطیوں میں مبتلا تھے ـ بحمدللہ اب سو برس تک تو تجدید کی ضرورت نہیں رہی اگر پھر خلط ہو جائے گا تو پھر کوئی اللہ کا بندہ پیدا ہو جائے گا ہر صدی پر ضرورت ہوتی ہے ـ تجدید کی اس لئے کہ مدت کے بعد نری کتابیں ہی کتابیں رہ جاتی ہیں ـ اب تو خدا کا فضل ہے کہ وضوح ہو گیا اور کتابیں فی نفسہ تو کافی ہیں مگر لوگ اس میں تحریفیں کہ لیتے ہیں اور کتابیں تو در کنار قرآن پاک کو ھدی اور بینات فرمایا گیا ہے مگر اس میں بھی دیکھ لیجئے کہ لوگ معانی اور مطالب میں کس قدر گڑبڑ مچا دیتے ہیں ـ
