( ملفوظ 99 ) جہاں جائے وہاں کے معمولات معلوم کرے

ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے ان کے نا واقفی قواعد کے عزر کرنیکے جواب میں فرمایا کہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں کہ بدون کسی جگہ جائے ہوئے ـ اطلاع کئے ہوئے کسی جگہ کے معمولات کی کیا خبر کہ وہاں کے کیا اصول ہیں کیا قواعد ہیں مگر اتنی عقل تو ہونا چاہیئے کہ جہاں جائے وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کر لے یہ تو کوئی ایسی باریک اور غامض بات نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے ایسی موٹی بات اور اس میں یہ گڑبڑ تو پھر ایسے شخص سے آئندہ ہی کیا امید ہو سکتی ہے میں کہا کرتا ہوں کہ ایسی باتوں کو نہ سمجھنا بے عقلی یا بد فہمی کے سبب سے نہیں ہوتا بلکہ زیادہ بے فکری کے سبب ہوتا ہے ـ جو کہ ختیاری ہے بس یہ ہے وجہ میرے مواخزہ کی میں جب کسی غلطی کے صدور پر کسی سے سوال کرتا ہوں کہ یہ بتلاؤ کہ اس غلطی کا سبب بدفہمی ہے یا بے فکری اکثر ہوگ یہ سمجھ کے اگر بے فکری کو سبب بتلاتے ہیں تو وہ چونکہ اختیاری ہے مواخزہ سخت ہوگا بس جان بچانے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ بد فہمی میں اس پر کہتا ہوں کہ بے فکری اگر سبب ہوتی تو چونکہ وہ اختیاری ہے اس لئے امید انسداد کی قریب نہیں لہزا تم سے موافقت مشکل ہے تمھاری خدمت سے معزور ہوں ـ