ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ توکل تو اتنی بڑی چیز ہے جس کو حق تعالی نصیب فرمادیں بڑی دولت اور بڑی نعمت ہے باقی ہم جیسوں کو تو اگر توکل کرنے والوں کی نقل ہی نصیب ہو جاوے یہ بھی سب کچھ ہے اس پر بھی فضل ہو جاتا ہے ـ دیکھ لیجئے کہ رؤسا کے یہاں نقل پر بھی انعام ملتا ہے بلکہ بعض دفعہ زیادہ ملتا ہے اصلی خربوزہ تربوزہ آم کریلے لے جائے تو بازار کی قیمت تو چار آنہ ملے گی اور اگر نقلی لے جائے تو انعام پانچ دس روپیہ ملجاتے ہیں تو اسی طرح ہمارا توکل تو کیا اگر نقل بھی ہو جاوے تو یہ بھی انشاءاللہ تعالی قابل انعام ہے اور دوسرے اعمال کو بھی اسی طرح سمجھ لیجئے ـ
