( ملفوظ 564)جانور تک حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نثار تھے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تو بڑی چیز ہیں وہ اگر رسول پر فدا ہوں تو کیا عجیب ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تو وہ ذات ہے کہ جانور تک آپ پر نثار تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور بقیہ حضرت علی سے کرا کر سو پورے فرما دیئے اور تریسٹھ کے عدد میں ایک لطیفہ ہے کہ شاید کہ یہ اشارہ ہو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنین عمر کے عدد کی طرف تو ذبح کرنے کے وقت ہر ایک اونٹ آپ کی طرف سبقت کرتا تھا کہ پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجھ کو ذبح کریں حدیث کے یہ الفاظ ہیں :
کلھن یزدلفن الیہ اور اس سے جیسی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان محبوبیت معلوم ہوتی ہے ۔ اسی طرح شان سلطنت معلوم ہوتی ہے کیونکہ سو اونٹ تو عادۃ کوئی بادشاہ بھی ذبح نہیں کرتا اور اگر کسی بادشاہ نے اس قدر اونٹ قربانی کر بھی دیئے تو یہ محبوبیت تو نصیب نہیں ہو سکتی میں آپ کی اس شان محبوبیت پر ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد