ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ متکبر امراء کو تو منہ ہی نہ لگانا چاہئے ان کے دماغوں میں فرعونیت بھری ہوتی ہے الا ماشاء اللہ غرباء بے چارے محبت سے پیش آتے ہیں میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ امراء کے پاس فلوس ہوتا ہے اور غرباء کے پاس خلوص ہوتا ہے جو امراء کے پاس کم ہوتا ہے اس پر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ جلال آباد کے ایک رئیس خاں صاحب ملاقات کے لئے آئے اور پچیس روپیہ مجھ کو دینا چاہے تو میں نے دس روپیہ لے لئے اور پندرہ روپیہ واپس کر دیئے اس لئے کہ اس روز مجھ کو دس ہی روپیہ کی ضرورت تھی لکڑیاں ادھار لے لی تھیں ان خاں صاحب نے اصرار بھی کیا مگر میں نے نہیں لئے بعد میں خاں صاحب نے لوگوں سے بیان کیا کہ میں نے اول دس ہی روپیہ کی نیت کی تھی مگر خیال ہوا کہ دس روپیہ میری شان کے بھی خلاف ہے اور اس کی بھی اس لئے پندرہ روپیہ اور ملا لئے غرض دس روپیہ خلوص کے تھے اور پندرہ ریا کے پھر فرمایا کہ ایسے پیسہ میں برکت بھی نہیں ہوتی غریبوں کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے ہر کام میں ہر بات میں سادگی اور خلوص ہوتا ہے گو فلوس نہیں ہوتا مگر باوجود قلیل ہونے کے اس میں برکت ہوتی ہے اس پر ایک غریب سقہ کی حکایت بیان فرمائی کہ لکھنؤ میں مولوی عبدالرزاق صاحب ایک برزگ تھے درویش بھی تھے عالم بھی تھے ان کی ایک سقہ نے دعوت کی جس وقت مولوی صاحب کھانا کھانے چلے راستہ میں ایک بد دماغ رئیس مل گئے اور یہ معلوم کر کے کہ کہاں جا رہے ہیں کہا کہ ایسی جگہ جانے جانے سے ذلت ہوتی ہے مولوی صاحب نے لطیفہ کیا کہ اس سقہ سے کہا بھائی ذلت کو کون گوارا کرتا ہے اس لئے میں اب دعوت میں نہیں جاتا وہ رونے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا مولوی صاحب نے فرمایا کہ اگر ان کو بھی لے چلے تو میں چلوں وہ ان کی خوشامد کرنے لگا انہوں نے بہانے کئے مگر وہ برابر خوشامد سے اصرار کرتا رہا ان رئیس صاحب کے بعض معاصرین وہاں آ گئے انہوں نے مجبور کیا کہ ایک غریب مسلمان خوشامد کر رہا ہے کیوں نہیں جاتے آخر گئے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک ایک فرلانگ تک چھڑکاؤ ہو رہا ہے اور دو سو ڈھائی سو سقہ قطار باندھے ادب سے کھڑے ہیں اور فرش اور روشنی کا بھی معقول انتظام ہے غرض کہ ہر بات سے محبت اور خلوص معلوم ہوتا تھا پھر کھانے میں بھی بے حد خاطرداری اور نیازمندی کا برتاؤ ہو رہا تھا آخر اسی مجلس میں رئیس صاحب کی رائے بدل گئی کہ عزت واقعی غریبوں ہی سے ملنے میں ہے خدمت کرتے ہیں اور احسان مانتے ہیں بخلاف متکبرین امراء کے اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو وہ بھی اس طریق سے جیسے دوسرے پر کوئی بڑا احسان کیا حضرت مولانا محمد قاسم صاحب غرباء سے بہت محبت کرتے تھے جب کوئی غریب مہمان ہوتا اچھے اچھے کھانے کھلاتے اور امراء کو ساگ دال ایسی چیزیں اور پوچھنے پر بطور لطیفہ کے فرماتے کہ مہمان کو لذیذ کھانا کھلانا چاہئے اور کل جدید کے قاعدہ سے جدید کھانا لذیذ ہوتا ہے اور غرباء کے لئے وہ جدید ہے اور امراء کے لئے یہ ۔
