ایک خط کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا ! کہ منجملہ میرے اور بے مروتیوں کے ایک بے
مروتی یہ بھی ہے کہ میں جواب میں سائل کی خواہش کی رعایت نہیں کرتا حدود کی اور سائل کی مصالح
کی رعایت کرتا ہوں ـ میں نے لکھ دیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ ابھی اس کی تحقیق کا وقت نہیں جب کچھ
کام کرلو گے تب جواب میں لطف آئے گا ــ اور اب تو مجھ کو سوال ہی میں مزہ نہیں آیا تم کو جواب میں کیا مزہ آئے گا ـ یہی وجہ ہے کہ میں بغرض تربیت آنے والوں کیلئے قید لگا دیتا ہوں کہ بولا مت
کرو ـ اس لئےکہ بدوں ذوق کے بولنا مناظرہ کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ اس طریق میں
بے حد سخت مضر ہے یہ وہ اصول ہیں کہ طالب علمی مباحث سے قیامت تک حل نہیں ہو سکتے ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عام پیروں کے یہاں تو یہ معاملات اور اصول
ہیں نہیں صرف آپ کے یہاں ہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت کے مزاج میں درشتی ہے
تبسم فرما کر مزاحا فرمایا کہ تین نقطہ الک کر دیے جائیں یعنی درستی ہے ـ
فرمایا کہ آجکل کے اکثر پیروں کی تو یہ کیفیت ہے مثال تو فحش ہے مگر ہے منطبق ـ وہ یہ ہے کہ
میری اور دوسروں کی بالکل ایسی مثال ہے کہ جیسے رنڈی اور گھر ستن کی طالبوں کے جمع کرنے کی
جتنی تدابیر رنڈ ی کرتی ہے اور قسم قسم کے روپ بدلتی ہے پھنسانے کیلئے اور نائکہ سے کہتی ہے
اس کو لاؤ اس کو لاؤ ـ گھر ستن نہیں کر سکتی ـ اور اس میں ایک استغناء کی شان ہوتی ہے ـ مولانا فرماتے ہیں ؎
زیر بارند درختاں کہ ثمر ہا دارند ٭ اے خوشا سرو کہ از بند غم آزاد آمد
( زیر بار ہیں وہ درخت جو پھل دار ہیں ـ مبارک ہو سرو کو کہ قید غم سے آزاد ہے )
دلفریباں نباتی ہمہ زیور بستند ٭ دلبر ماست کہ باحسن خدا داد آمد
( تمام محبوب محتاج زیور کے ہیں اور ہمارے محبوب کا حسن ـ حسن خدا داد ہے )
