ملفوظ 53: عارفین کو عبادت کی لذت سے بے توجہی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ عارفین نے تو عبادت کی لذت کے قصد سے بھ پناہ
مانگی ہے اگر ساری عمر گزر جائے اور کوئی لذت ان کو نہ آئے وہ اس پر بھی راضی ہوتے ہیں ایک
بزرگ پہاڑ میں رہتے تھے ایک اور بزرگ ان سے ملنے گئے دیکھا کہ دعا میں مشغول ہیں یہ اس
وقت نہیں ملے ـ اس خیال سے کہ مشغول مع اللہ تھے ـ
یہ یاد رکھنے کی بات ہے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ مشغول مع اللہ کو بلا ضرورت اپنی
طرف مشغول کرنے سے حق تعالی کی ناخوشی کا اندیشہ ہے ـ بلا ضرورت کی قید سے میں نے اس
میں توسیع کر دی ہے اگر ضرورت ہو وہ متثنٰی ہے خیر وہ بزرگ یہ دعا مانگ رہے تھے کہ الٰہی تفویض
کی لذت سے بھی پنا ہ مانگتا ہوں ۤـ بعض لوگ تفویض اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اس میں راحت
ہے جو ایسا کرتے ہیں انہوں نے تفویض کا حق ادا نہیں کیا ـ تفویض اس نیت سے ہونا چاہئے کہ یہ
حق تعالی کا حق ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر تفویض شکر کی نیت سے کی جائے
فرمایا کہ یہ باتیں ( ان پر عمل ) کرنے سے سمجھ میں آتی ہیں ـ بتلانے سے سمجھ میں نہیں آتی ـ