ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کل جس طالب علم کو نکل جانے کے لیے فرمایا تھا وہ میرے واسطے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ میرے لیے جو چاہیں حضرت سزا تجویز فرما دیں مجھے منظور ہے ۔ فرمایا کہ جو واقعہ اس وقت تک ہوا ہے وہ من و عن لکھے اس میں ذرہ برابر جھوٹ اور تلبیس نہ ہو ، لکھنے کے بعد پھر اس کو بغور دیکھے اس کے بعد پھر مجھ کو دکھائے اور یہ بتلائے کہ وہ اس واقعہ کو خود کیا سمجھاتا کہ میں پھر اس کے لیے آئندہ تجویز کر سکوں اور فرمایا کہ واقعہ لکھنا بھی تو اچھا خاصہ مجاہدہ ہے اور مشغلہ ہے ہفتہ بھر تو اس کے لیے چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہے بہت نافع فرمایا کہ نافع ہی تو مشکل سے ملتا ہے پھر ان مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس سے یہ کہہ کر پھر کہلوا بھی لیجیئے گا اس تقریر کو بھی سمجھ گیا یا نہیں کیونکہ آج کل سمجھ اور فہم کا بھی قحط ہے ۔
