( ملفوظ 127 )کافروں کا مسجد کی تعمیر میں چندہ دینا

ایک صاحب نے دریافت کیا کہ اگر کوئی ہندو مسجد میں بطور امداد رقم دے ، لے لینا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس رقم کو مسجد کی تعمیر میں صرف کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب فرمایا جائز ہے پھر دریافت فرمایا کیا کوئی ہندو ایسا ہے جو مسجد میں چندہ دینا چاہتا ہے ؟ عرض کیا کئی شخصوں نے خواہش ظاہر کی مگر بغیر مسئلہ پوچھے لینا مناسب نہیں سمجھا ، فرمایا اگر لیا جائے تو دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ایک تو یہ کہ وہ دینے والے ایسے نہ ہوں کہ دے کر احسان جتلائیں ۔ دوسرے یہ کہ اس سے مسلمان متاثر ہو کر ان کے مذہبی چندہ میں شریک نہ ہونے لگیں ۔ اس خیال سے کہ انہوں نے ہمارے یہاں چندہ دیا تھا ہم کو بھی دینا چاہیے ۔ ممکن ہے کہ وہ مندر بنانے لگے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے مسجد میں دیا تھا تم مندر میں دو ، سو ایسی جگہ چندہ لینا بھی جائز نہیں اور اگر ان باتوں کا اندیشہ نہ ہو تو لے لیا جائے کوئی حرج نہیں اور یہ قرائن سے معلوم ہو سکتا ہے ۔ عرض کیا گیا اس کا تو احتمال ہے کہ شاید ایسا ہو کہ وہ اپنے مذہبی چندہ میں شریک کریں ، فرمایا تو ایسی صورت میں لینا جائز نہیں ۔