ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولوی سالار بخش صاحب گو صحیح الادراک نہ تھے مگر ذہین بڑے تھے ، ان کی باتیں عجیب و غریب ہوتی تھیں ، باہر جب نکلتے تھے تو منہ پر نقاب ہوتا تھا کہ کہیں کافر کو ان کا چہرہ نظر نہ آ جائے ۔ ایک شخص تھا قمرالدین نام کا اس سے کچھ خفا ہو گئی تھی تو ایک روز وعظ میں بیان کیا کہ اس کو بعضے لوگ کہتے ہیں کمرو یعنی بھونڈا منہ بعضے کہتے ہیں خمرو یعنی ٹیڈہا بعضے کہتے ہیں قمرو یہ اصل میں ہے قم رو یعنی اٹھ چلا جا عالم کی مجلس میں سے ۔ ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ مولوی صاحب سالار بخش کیا نام ہے جس کے معنی ہیں سالار کا بخشا ہوا یہ تو شرک ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا نام ہے ۔ یہ اصل میں سال آر یعنی سال کا لانے والا تو وہ کون ہوا بجز اللہ تعالی کے حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی طرف سے خیال تھا کہ یہ میرے بتلائے مسائل پر ناحق کے اعتراضات کیا کریں گے ، بس یہ تدبیر کی کہ ایک مرتبہ مولوی سالار بخش صاحب گنگوہ آئے ہوئے تھے ۔ حضرت مولانا سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا ، حضرت نے فرمایا کہ آج کل مولوی سالار بخش صاحب آئے ہوئے ہیں وہ ہم سب کے بڑے ہیں ، ہم ان کے ہوتے ہوئے مسئلہ کیا بتائیں انہیں سے جا کر دریافت کرو ، یہ شخص وہاں پہنچا اور جا کر مولوی صاحب سے مسئلہ دریافت کیا اور حضرت کا یہ مقولہ بھی نقل کر دیا ۔ مولوی صاحب اس کو سن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ وہ بھی بڑے عالم ہیں بس انہیں سے جا کر دریافت کرو ہم نے یہ کام ان ہی کے سپرد کر دیا ہے ۔ اب یہ ہی سلسلہ ہو گیا کہ جو مولوی صاحب کے پاس مسئلہ پوچھنے آتا حضرت کا نام بتلا دیتے ۔ یہ حضرت کی فراست تھی کسی لطیف تدبیر سے کام نکال لیا ۔ سچ یہ ہے کہ اس زمانے کے مجانین بھی اچھے ہی تھے آج کل کے تو مجازین بھی شاید ایسے نہ ہوں ۔ ایسا کوئی کر کے تو دکھلائے اور ہمیشہ حضرت کے ثناء خواں رہے ۔
2 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بوقت 9 بجے صبح یوم چہار شنبہ
