ملفوظ 255: خلف فی الوعید بھی ممتنع ہے

ملفوظ 255: خلف فی الوعید بھی ممتنع ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ کذب اخبار میں ہوتا ہے انشاات میں نہیں ہوتا اور وعید انشا ہے اگر صیغہ اخبار کا بھی ہو وہ محض صورۃ ہے معنی انشاء ہی میں داخل ہے اسی سے بعض لوگوں نے کہہ دیا ولوخلافا للجمہور کہ خلف فی الوعید وقوعا بھی جائز ہے اور اس پر جو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ قول بو قوع الکذب ہے اس کا یہی جواب دیا ہے کہ کذب اخبار میں ہوتا ہے اور وعید صورتا اخبار ہے ورنہ حقیقت میں انشاء ہے مگر جمہور کے لئے قاضی ثناء اللہ صاحبؒ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ یستعجلونک بالعذاب ولن یخلف اللہ وعدہ ـ یہ لوگ آپ سے عذاب کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالی کبھی اپنا وعدہ خلاف نہ کریگا ،، ـ یہاں وعدہ سے مراد یقینا وعید ہے بقرینہ ذکر العذ اب تو قرآن کی نص سے خلف فی الوعید کا ممتنع ہونا معلوم ہو گیا ـ 12/ رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ