ملفوظ 156: رخصتوں پر عمل ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کو کھانسی کی بڑی تکلیف ہے اور رمضان شریف میں یہ اس قسم کی تکلیف ہے جیسے کھانسی زکام وغیرہ ذرا دیر سے اچھی ہوتی ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ روزہ کے سبب وقت بے وقت کھانے پینے کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہی ہے اس پر فرمایا : ان اللہ یحب ان یوتی رخصہ : کما یحب ان یؤتی عزائمہ ترجمہ : اللہ تعالی جس طرح اصل اعمال کی بجا آوری کو محبوب رکھتے ہیں اگر کسی عذر کی وجہ سے کوئی رعایت شرع میں میں دے گئی ہو اس پر عمل کرنے کو بھی محبوب رکھتے ہیں ،، ـ جامع صغیر میں یہ روایت ہے اس روایت سے افطار کی بھی ہمت ہو گئی کہ اگر طبیب شرعی فتوی دیدے تو میں افطار کر دوں اس لئے مجھ کو تکلیف سے تنگی نہیں ـ
