( ملفوظ 222 ) کان کا میل نکالنے سے متعلق ایک لطیفہ اور ایک مسئلہ

فرمایا کہ آج کان کا میل نکلوایا ہے کیونکہ کئی دن سے خفیف خفیف درد تھا ۔ گو کان کے اندر کوئی سلائی وغیرہ ڈالنا اس مقولہ کے خلاف ہے کہ ناک میں انگلی ، کان میں تنکا مت کر مت کر مت کر آنکھ میں انجن دانت میں منجن مت کر مت کر جو شخص کان کا میل نکالنے آئے تھے ان کے والد کے والد کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے مجھے ایک فتوی لکھوا کر اپنی ایک بیاض میں رکھ لیا تھا وہ میل نکلوانے والوں کو دکھلا دیتے تھے کیونکہ عموما یہ خیال ہے کہ کان کا میل نکلوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے حلانکہ نہیں ٹوٹتا اس لیے میں نے لکھ کر انہیں دیدیا تھا ۔