ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض مرتبہ سالک کو کسی کیفیت کے پیدا ہو جانے پر خیال ہوتا ہے کہ یہ حالت میری راسخ ہو چکی حلانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ قوت متخیلہ کا تصرف ہوتا جس کو دوام نہیں ہوتا پھر اس کے زوال پر افسوس کرتا ہے ۔ ایک مولوی صاحب کے سوال پر فرمایا کہ قوت متخیلہ بڑی عجیب چیز ہے بعض واقعات حیرت انگیز ہیں ۔ ایک پٹواری کی حکایت ہے جو ایک ثقہ عالم سے سنی ہے کہ وہ کاندھلہ سے تحصیل بوڑھانہ کو چلا ، گھر سے بستہ بغل میں لیا اور دوات کا محض خیال ہو گیا کہ ہاتھ میں ہے تو جس طرح ہاتھ میں دوات ہوتی اسی طرح ہاتھ کو کیے ہوئے بوڑہانہ تک چلا گیا ، پھر وہاں پہنچ کر اپنے خیال میں سرائے کی ایک کوٹھری کے طاق میں بھی رکھ دی ۔ پھر جب لکھنے کی ضرورت ہوئی تو ڈھونڈنا شروع کیا ، وہاں تھی کہاں بھٹیاری پر خفا ہوئے کہ تیری غفلت سے میری دوات کوئی لے گیا پھر گھر آ کر معلوم ہوا کہ دوات گھر ہی رہی ، محض خیال ہی خیال تھا کہ دوات ہاتھ میں ہے ۔ بعض واقعات میں تخیلات کو اتنا بڑا دخل ہو جاتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ ایک حکایت خواجہ صاحب نے مجھ سے بیان کی تھی ۔ عجیب حکایت ہے کہ ایک شخص باہر سے گھر آئے ، چھڑی ہاتھ میں تھی اس وقت ان پر نیند کا غلبہ تھا ، سیدھے پلنگ کی طرف پہنچے اور چاہا کہ چھڑی کونہ میں رکھ دیں اور خود چارپائی پر لیٹ جائیں مگر خیال کے تصرف سے چھڑی کو تو پلنگ پر لٹا دیا اور خود مکان کے کونہ سے لگ کر کھڑے ہوگئے ۔ ایک شخص نے صاحب واقعہ کا نام بھی بتلایا جو بڑے فلسفی اور ڈاکٹر ہیں ۔ یہ عجیب حکایت ہے واقعی کسی غلبہ کے وقت ایسی ہی باتوں کا صدور ہو جاتا ہے جو لوگ اہل حال پر معترض ہیں وہ ان باتوں کو دیکھیں اور ایسی حالتیں کم و بیش سب کو پیش آتی ہیں ۔ سو حالت و غلبہ کی وجہ سے اس وقت معذور ہوتا ہے کبھی اس قوت کا کسی ضرورت سے قصدا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو ایک مرتبہ جاڑا بخار چڑھا ہوا تھا ، نماز کا وقت آ گیا ، اپنی لکڑی پر نظر کی وہ بخار اس پر منتقل ہو گیا وہ کھڑی کھڑی کانپ رہی تھی اور آپ نے نماز پڑھ کر پھر دوسری نظر کر کے بخار کو اپنے اوپر لے لیا ، ایک فعل تصرف تھا ایک فعل عبدیت ۔
