ملفوظ 40 کامل کی صحبت سے ہمت پیدا ہوتی ہے

فرمایا ! کہ ہمت سے اگر انسان کام لے کوئی بھی مشکل نہیں اور یہ ہمت پیدا ہوتی ہے کسی کامل کی صحبت میں رہنے سے اور رہنے سے یہ مراد نہیں کہ بال بچوں کو چھوڑ کر ملازمت سے
استعفٰی دے کر زراعت بند کر کے اس کے پاس جا پڑو بلکہ اگر وقت ملے تو اس کے پاس گاھے بگاھے
جانا بھی چایئے اور خط وکتابت سے ہمیشہ اپنے حالات کی اطلاع کرتا رہے جو کچھ وہ تعلیم کر تا ہے
اس پر کار بند رہے پھر انشاء اللہ تعالی ہمت پیدا ہو جائے گی بدوں صحبت کامل اور بغیر اس سے تعلق پیدا کئے کام بننا مشکل ہے گو غیر ممکن نہیں مگر شاذ ونادر ضرور ہے مولانا فرماتے ہیں ؎
قال را بگذ را مرد حال شو ٭ پیش مرد کاملے پامال شو
( یعنی ظاہر اور باطن دونوں کی درستی میں لگو ـ اور کسی مرد کامل کی خدمت میں اپنے کو سپرد کر دو)
بغیر جوتیاں سیدھی کئے ہوئے کامیابی آسان نہیں آخر طبیب کے پاس جا کر علاج کیوں کراتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مرض سے نجات اور تندرستی بغیر طبیب کے پاس جائے نہیں حاصل ہو سکتی تو وہ امراض جسمانی کا معالج ہے اور یہ امراض روحانی کا معالج مگر ایک کی ضرورت میں کسی کو بھی کلام نہیں اور دوسرے کی ضرورت میں کلام کیا جاتا ہے وجہ فرق کیا ہے ـ