فرمایا ! ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ نفس کو بھی لطافت میں سے شمار کیا گیا ہے ـ
گو داعی الی الشر ہے اور مطمئنہ ہونااس کا عارضی ہے ریاضت سے
دبا رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ بعض سالکین کو دھوکا ہو جاتا ہے بعد مجاہدہ کے اگر اپنے اندر
طبیعیہ مذمومہ کا اثر پاتے ہیں اس سے مجاہدہ کے بے کار ہونے کا گمان کر بیٹھتے ہیں اور اکثر اس نتیجہ مایوسی سے تعطل ہو جاتا ہے میں کہتا ہوں کہ اگر اخلاق ذمیمہ زائل ہو جائیں یا بالکل ہی ختم ہو جائیں تو پھر درجات اور ثواب کس چیز پر مرتب ہوں ہاں اگر اس قدر مغلوب ہو جائیں کہاں
اقتضاء پر عمل کرنے کو بآسانی ترک کرنے کی قوت راسخ ہو جائے تو مقصود حاصل ہے گو کبھی کبھی
منازعت بھی کرے تو اس پر غلبہ کی سعی میں لگا رہنا چاہئے پس طالب کی تو یہ حالت ہونی چاہئے
اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخر دمے فارغ مباش
( یعنی راہ سلوک میں تراش وخراش بہت ہے لہذا مرتے دم تک ایک منٹ کیلئے بے فکر مت ہو )
